01 March 2026DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com
London: Six Men Convicted of Killing Shamus Hussain in Dewsbury
ڈیوسبری میں 39 سالہ شمس حسین کے قتل کا فیصلہ — چھ افراد مجرم قرار
لندن (پوٹھوار ڈاٹ کام — محمد نصیر راجہ |01 مارچ2026)ڈیوسبری میں 39 سالہ شمس حسین کے بہیمانہ قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے لیڈز کراؤن کورٹ نے چھ افراد کو مجرم قرار دے دیا۔ جیوری نے چار ملزمان کو قتل جبکہ دو کو قتلِ خطا (مانسلاٹر) کا قصوروار ٹھہرایا۔
عدالت میں بتایا گیا کہ ہفتہ 12 جولائی کو پیلگرم ڈرائیو، ڈیوسبری مور میں شمس حسین اور باسط علی، سکیب علی خان، ذیشان خان اور ایک اور شخص کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق زبانی تکرار کے بعد ملزمان کے ایک گروہ نے شمس حسین کا پیچھا کیا جو انہیں کراؤ نیسٹ پارک، ڈیوسبری تک لے گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پارک میں شمس حسین پر بیس بال بیٹس اور ہاکی اسٹکس سے حملہ کیا گیا۔ مزید برآں انہیں کمر پر دو مرتبہ چاقو کے وار کیے گئے جو جان لیوا ثابت ہوئے۔ شدید زخمی حالت میں انہیں طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
عدالت میں جاری رہنے والا یہ مقدمہ چھ ہفتوں سے زائد عرصے تک جاری رہا جس کے دوران جیوری نے گواہوں کے بیانات، فرانزک شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا۔
جمعرات 26 فروری کو جیوری نے چار ملزمان کو قتل کا مجرم قرار دیا:
ثقلین علی (21 سال)
باسط علی (31 سال)
سکیب علی خان (32 سال)
ذیشان خان (19 سال)
یہ تمام افراد پیلگرم ڈرائیو اور پیلگرم کریسنٹ، ڈیوسبری کے رہائشی ہیں۔
جبکہ:
عاصم اکرم (21 سال)
فیضان اکرم (19 سال)
دونوں ساکنان پیلگرم کریسنٹ، ڈیوسبری کو قتلِ خطا کا مجرم قرار دیا گیا۔
فیصلے کے بعد کی صورتحال
عدالت نے تمام مجرمان کو حراست میں لے لیا ہے اور آئندہ سماعت پر سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق قتل کے جرم میں ملوث چاروں افراد کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ قتلِ خطا کے مجرمان کو بھی طویل مدتی قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مقتول شمس حسین کے اہل خانہ نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس سے ان کا نقصان پورا نہیں ہو سکتا، تاہم انصاف کا تقاضا پورا ہوا ہے۔
یہ واقعہ علاقے میں تشویش کا باعث بنا تھا اور مقامی کمیونٹی نے پرتشدد واقعات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔





بندے تے ادھرے نے ای لغنے۔