DailyNewsHeadlineKahutaPothwar.com
Kahuta: Compensation and prices of hundreds of kanals of land belonging to the victims of Kahuta Bypass could not be determined
کہوٹہ بائی پاس کے متاثرین کی سینکڑوں کنال اراضی کا معاوضہ اور قیمتوں کا تعین نہ ہوسکا

کہو ٹہ: (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم,عمران ضمیر,14،جولائی,2023)— کہوٹہ بائی پاس کے متاثرین کی سینکڑوں کنال اراضی کا معاوضہ اور قیمتوں کا تعین نہ ہوسکا۔ چار سال سے قیمتی کمرشل اور زرعی زمین کی حیثیت تبدیل کرکے مالکان کا کروڑوں کا نقصان کیاگیا۔ سپل وے،دیواریں، پانی کے
کنوویں، بورز،سولر سسٹم، ڈرپ ایریگیشن سسٹم سمیت زرعی اجناس، پھلدار پودے اور کمرشل اراضی پر بھاری مشینری اور لوڈرز کے ذریعے متاثرین کو معاوضےدیئے بغیر چار سالوں سے کھدائی۔ بھرائی اور پہاڑ کی توڑ پھوڑ جاری ہے۔چارسال سے تاحال نہ تو ریٹس طے کیئے گئے ہیں۔ اور نہ ہی متاثرین کو کچھ بتایا جارہا ہے۔ متاترین اراضی راجہ سعید احمد ایڈووکیٹ۔ عثمان ضمیر۔ کعب عزیز۔ توقیر شبیر۔ وغیرہ نے بتایا کہ ہماری زمینوں کے ریٹس لگاتے وقت موجودہ مارکیٹ ویلیو اور سرکاری ریٹس کو سامنے رکھ کر قیمتوں کاتعین کیاجائے۔ متاثرین سے زیادتی کی گئی تو متاثرین احتجاج پرمجبور ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالکان کا تعین کرتے وقت میرٹ کو مدنظر رکھاجائے۔ من پسند نقشے بنا کر اصل حقدار محروم کیئے جارہے ہیں۔ محکمہ مال، ریونیواور نیشنل ہائی وے کے ذمہ داران صورتحال کو سمجھیں اور متاثرین کو اعتمادمیں لیکر زیادتیوں کا ازالہ کیاجائے۔ دریں اثناء سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کہوٹہ بائی پاس اور چار رویہ کہوٹہ پنڈی روڈ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سہالہ اوور ہیڈ برج کا تقریباً 17 ارب کا منصوبہ حلقہ کی عوام کے لیئے تحفہ ہے۔ ترقیاتی کام عوام کا حق ہے۔ یہ کسی پر احسان نہیں۔ متاثرین سے کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوگی۔ اچھے ریٹس لگائے جائیں گے۔ میرٹ پر کام ہوگا۔ انہوں مزید کہا کہ حلقہ کی عوام کے خلوص اور پیار کو بھلا نہیں سکتا۔راجہ سعید ایڈووکیٹ اور دیگر متاثرین نے میگاپراجیکٹ شروع کرانے پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ایک انقلابی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس سے نہ صرف کہوٹہ اور راولپنڈی بلکہ آزادکشمیر کے ٹرانسپورٹرز اور مسافر بھی مستفیدہونگے۔




