لندن (پوٹھوار ڈاٹ کوم— محمد نصیر راجہ | 09 فروری 2026ء): برطانیہ میں ایک نوعمر لڑکے پر ہونے والے شدید اور منصوبہ بند حملے میں ملوث مرکزی ملزم محمد حمید کو عدالت نے طویل قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں متاثرہ نوجوان کو دماغی چوٹ آئی، جس نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
پچاس سالہ محمد حمید، جو اس سے قبل لوٹن کا رہائشی تھا، پولیس کی تفتیش میں اس حملے کے دوران استعمال ہونے والی گاڑی کا ڈرائیور ثابت ہوا۔ پولیس کے مطابق وہ پہلے سے منصوبہ بند اس حملے میں حملہ آوروں کو موقع واردات تک لایا اور بعد ازاں انہیں فرار کروایا۔
واقعے کے بعد ہنگامی سروسز کو اس وقت طلب کیا گیا جب ایک نوعمر لڑکے کو ٹیلفورڈ وے، لوٹن میں واقع ریلوے برج کے نیچے سڑک پر بے ہوش حالت میں پایا گیا۔ ابتدا میں واقعے کو ہٹ اینڈ رن کیس سمجھا گیا، تاہم طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ متاثرہ لڑکے کو شدید دماغی چوٹ لگی ہے جو کسی ٹریفک حادثے سے مطابقت نہیں رکھتی۔
تحقیقات کے دوران کراؤلی روڈ کار پارک کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی، جس میں حملے سے پہلے کے لمحات دکھائے گئے۔ فوٹیج کے مطابق متاثرہ لڑکا چند منٹ کے لیے ایک جاننے والے کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا، بعد ازاں دونوں ٹیلفورڈ وے کی جانب روانہ ہوئے۔ اسی دوران ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی وہاں پہنچی، جس میں سے چار نقاب پوش افراد، جن کے ہاتھوں میں بیس بال بیٹس سمیت دیگر ہتھیار تھے، باہر نکلے۔
ان میں سے دو افراد نے ریلوے برج کے نیچے متاثرہ لڑکے کو جا لیا اور کیمروں کی نظروں سے اوجھل ہو کر اس پر بہیمانہ تشدد کیا۔ حملے کے بعد محمد حمید نے بی ایم ڈبلیو گاڑی میں حملہ آوروں کو موقع سے فرار کروایا اور بعد ازاں گاڑی کو فارلے ہل کے علاقے میں چھوڑ دیا۔
اس وحشیانہ حملے کے نتیجے میں متاثرہ نوجوان کو زندگی بھر کی معذوری کا سامنا ہے۔ محمد حمید، جو اس وقت ایک اور مقدمے میں پہلے ہی جیل میں قید تھا، کو لوٹن کراؤن کورٹ نے سنگین جسمانی نقصان (GBH) کی سازش میں مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال اور 9 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
عدالتی فیصلے کے بعد پولیس حکام نے کہا ہے کہ یہ سزا پرتشدد جرائم میں ملوث عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔
London (Pothwar.com — Mohammad Naseer Raja | February 09, 2026): Mohammed Hamid has been jailed for his part in an attack that left a teenager with a traumatic brain injury.
Mohammed Hamid, 50, previously from Luton, was identified by police as the getaway driver in the pre-planned attack.
Emergency services had been called after a teenager was found unconscious in the road beneath the railway bridge on Telford Way in Luton.
He was initially thought to have been the victim of a hit-and-run, but had suffered a traumatic brain injury, not consistent with a crash.
CCTV from Crawley Road car park showed the moments leading up to the attack.The victim was seen getting into a car with an associate for a few minutes before they got out and walked off towards Telford Way. A BMW drove towards them, and four masked men with weapons, including baseball bats, jumped out.
Two of the men caught the victim under the bridge and attacked him, just out of sight ofthe cameras.
Hamid, the driver of the BMW, drove the attackers away from the scene before dumping the car in Farley Hill.
The victim has been left with life-changing injuries. Hamid, who is currently in prison for an unrelated matter, was found guilty at Luton Crown Court of conspiracy to commit GBH and jailed for 10 years and nine months.