DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com
Norway: Pakistan Community Marks Quaid-e-Azam’s 150th Birth Anniversary
ناروے میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں سالگرہ کی باوقار تقریب

ناروے(پوٹھوار ڈاٹ کام | عقیل قادر,06 فروری 2026)–ناروے میں بزمِ احبابِ پاکستان کے زیرِ اہتمام بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 150ویں یومِ ولادت کی مناسبت سے حرا کیٹرنگ میں ایک باوقار، فکری اور نظریاتی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اگرچہ یہ تقریب ایک ماہ کی تاخیر سے منعقد ہوئی، تاہم شرکاء کے جذبۂ عقیدت اور فکری وابستگی میں کوئی کمی نہ تھی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس سے محفل میں روحانی فضا قائم ہو گئی۔ محمد انور صوفی نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ ایک طویل وقفے کے بعد آج اس مشن کا دوبارہ آغاز ہوا ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان، نظریۂ پاکستان اور دو قومی نظریے کو اجاگر کرنا ہے، اور علامہ اقبالؒ و قائداعظمؒ جیسی عظیم شخصیات کی فکر کو عملی زندگی میں زندہ رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان رہنماؤں کو دوبارہ اس دنیا میں تو نہیں لا سکتے، مگر اپنی گفتگو، اپنے عمل اور اپنے کردار میں مثبت تبدیلی لا کر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں، اور یہی ان کے مشن سے حقیقی وابستگی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محبوب الرحمٰن نے قائداعظمؒ کی اسلامی فکر، سیاسی بصیرت اور قیامِ پاکستان میں ان کے تاریخی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ کی جدوجہد محض ایک سیاسی تحریک نہیں بلکہ ایک تہذیبی و نظریاتی سفر تھا، جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی گئی۔
ناروے سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور
Knut Jørgen Plesner
نے علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری کے اپنے تراجم پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔
اس موقع پر خضرا حسین، عفت حسن رضوی اور زاہد بشیر نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے قائداعظمؒ کی سیاسی حکمتِ عملی، دو قومی نظریے اور عالمی امور پر ان کی گہری نظر کو اجاگر کیا۔
زاہد بشیر نے اپنے خطاب میں قائداعظمؒ کی 11 اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خطاب کا بنیادی مقصد اقلیتوں کو یقین دہانی کرانا تھا، جبکہ قیامِ پاکستان سے قبل قائداعظمؒ کی جدوجہد کا مرکز اسلامی تہذیب اور دو قومی نظریہ رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قائداعظمؒ نے متعدد مواقع پر اعلان کیا کہ نئی مملکت کا آئین اسلامی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔
عفت حسن رضوی نے کہا کہ قائداعظمؒ کی بصیرت کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ پاکستان آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی فلسطین کے حوالے سے دور اندیشی پر روشنی ڈالتے ہوئے مؤرخ میاں محمد افضل کی کتاب میرا کارواں کا حوالہ دیا، جس کے مطابق قائداعظمؒ نے 1938ء سے فلسطین کے حق میں آواز اٹھائی، فلسطین فنڈ قائم کیا اور برطانوی حکومت کو سخت خطوط لکھے۔
محمد انور صوفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام کو کسی ریاست کی ضرورت نہیں تھی بلکہ مسلمانوں کو ایک محفوظ ریاست کی ضرورت تھی، اور پاکستان اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ کا خواب مسلمانوں کی فلاح و بہبود تھا، جس پر آج بھی سنجیدہ غور و فکر کی اشد ضرورت ہے۔
بعد ازاں قائداعظمؒ کے موضوع پر شاعر قتیل شفائی کی نظم پیش کی گئی، جسے حاضرین نے بھرپور توجہ سے سنا۔
تقریب کے اختتام پر دعا کی گئی، جس کے بعد شرکاء کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔




