DailyNewsHeadlineKahutaPothwar.com

Kahuta:Forest Department Employees Protest Salary Deductions in Kahuta, Kotli Sattian and Murree

محکمہ گزارہ کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف کہوٹہ، کوٹلی ستیاں اور مری میں شدید احتجاج

مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،4فروری2026)
ڈی ایف او محکمہ گزارہ کی طر ف سے ملازمین کی تنخواہیں میں کٹوتی کر نے پرتحصیل کہوٹہ،تحصیل کوٹلی ستیاں اور تحصیل مری کے محکمہ گزارہ کے ملازمین کا مشترکہ شدید احتجاج،احتجاج میں تحصیل کہوٹہ،تحصیل کوٹلی ستیاں اور تحصیل مری کے ملازمین کی شرکت،احتجاج میں ملازمین کی خصوصی دعوت پر کہوٹہ کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت عنائت اللہ ستی کی خصوصی شرکت،زبر دست طریقے سے محکمہ گزارہ کے حقوق کی آواز بلند کی،ڈی ایف او گزارہ ملازمین کے ساتھ زیادتی بند کر یں ورنہ ہم اپنے حقوق کے لیے ہر ایک دروازے پر جاہیں گے تفصیل کے مطابق محکمہ گزارہ کی نئی تعینات ہونے والی ڈی ایف او نے آتے ہی ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کر دی انہوں نے 50ہزار تنخواہ والے ملازم کی 40ہزار اور چالیس والے کی 30ہزار اور تیس ہزار لینے والے ملازم کی تنخواہ 25ہزار کر دی ملازمین نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر تحصیل کہوٹہ،تحصیل کوٹلی ستیاں اور تحصیل مری کے ملازمین شدید احتجاج کیا، احتجاج میں ملازمین کی خصوصی دعوت پر کہوٹہ کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت عنائت اللہ ستی نے خصوصی شرکت کی اپنے خطاب میں عنائت اللہ ستی نے کہا کہ محکمہ گزارہ کے ملازمین کے ساتھ یہ زیادتی بند کی جائے کیونکہ یہ جو ان کو تنخواہ دی جاتی ہے یہ کروٹ فنڈز کی جو رقم ہے وہ بینک میں پڑی ہوئی رقم پر جو اضافہ ہوتا ہے اس میں سے دی جاتی ہے یہ تنخواہ گورنمنٹ اپنی طرف سے نہیں دے رہی تھی بلکہ یہ اس فنڈز کا پیسہ تھا یہ کسی کا پیسہ نہیں ہے یہ ہمارا کہوٹہ کا پیسہ ہے اور ہمارا حق ہے اور ہم اپنا حق لینا جانتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ان ملازمین کے ساتھ انصاف نہ کیا گیا تو ہم اپنے حقوق کے لیے ہر جگہ جاہیں گے۔

Matoor (Pothwar.com — Kabir Ahmed Janjua | February 4, 2026)
Employees of the Forest (Guzara) Department from Tehsil Kahuta, Tehsil Kotli Sattian, and Tehsil Murree staged a joint protest against alleged illegal deductions in their salaries by the Departmental Forest Officer (DFO). A large number of employees from all three tehsils participated in the demonstration, strongly condemning what they termed as injustice and exploitation.

The protest was organised after the newly appointed DFO reportedly reduced the salaries of employees soon after assuming charge. According to details, employees drawing a salary of Rs 50,000 were reduced to Rs 40,000, those earning Rs 40,000 were cut down to Rs 30,000, while employees receiving Rs 30,000 had their salaries reduced to Rs 25,000. The affected employees termed the deductions unlawful and unjustified.

On the special invitation of the protesting employees, a renowned political and social figure from Kahuta, Inayatullah Satti, also joined the protest and raised a strong voice in support of the employees’ rights. Addressing the gathering, Inayatullah Satti stated that the salary cuts must be withdrawn immediately, adding that the funds used to pay these salaries come from accrued profits on Guzara Forest funds deposited in banks, not from the government treasury.

He emphasised that the money belongs to the people of Kahuta and the region, calling it a legitimate right of the employees. “This is not anyone’s personal money; it is the rightful fund of the local people, and we know how to protect and claim our rights,” he said.

Inayatullah Satti further warned that if justice was not provided and the salary issue remained unresolved, employees, along with local leadership,p would approach every relevant forum and authority to secure their rights.

The protesting employees also vowed to continue their struggle until their salaries are fully restored and demanded immediate intervention from higher authorities to prevent further exploitation.

کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے متاثرین کا وعدے پورے کرنے کا مطالبہ، بصورتِ دیگر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان

Krut Hydropower Project Affectees Demand Fulfilment of Promises, Warn of Approaching Supreme Court

مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،4فروری2026)
متاثرین کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے پورے کیے جاہیں،بصورت دیگر ہم سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھاہیں گے، ہم سے صرف وعدے کیے جا رہے ہیں عملی طور پر کچھ نہیں کیا جا رہا وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہبازشریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے از خود نوٹس لینے کی اپیل ان خیالات کا اظہارتحصیل کہوٹہ کی یونین کونسل بیور کے رہا ئشی معروف سماجی شخصیت راجہ مدثر رزاق جنجوعہ (بانی راجہ عبدالرزاق مرحوم فاؤنڈیشن) آف گوہڑ ہ راجگان حال مقیم یو کے نے اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے متاثرین کے مسائل کے حوالے سے باعرضِ احترام گزارش ہے کہ کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی وجہ سے ایک بڑا اور اہم گاؤں کروٹ شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔ حکومتِ وقت نے سرمایہ کار کو زمین کے حصول کے لیے محکمہ مال (پٹواری) کے ذریعے کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ بدقسمتی سے اس علاقے کے زیادہ تر لوگ اَن پڑھ اور سادہ لوح ہیں، جنہوں نے حکام کی یقین دہانیوں پر بھروسا کیا۔لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے نئی رہائشی بستیاں قائم کی جائیں گی، جہاں تمام بنیادی سہولیات مثلاً اسکول، سڑکیں، ہسپتال، کلینکس اور پختہ مکانات مہیا ہوں گے۔ اس کے علاوہ مفت بجلی اور ہر خاندان کے ایک فرد کو مستقل ملازمت دینے کے وعدے بھی کیے گئے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر وعدے آج تک پورے نہیں کیے گئے۔ مقامی انتظامیہ نے زرعی زمین، مویشیوں (گائے، بھینس وغیرہ) اور دیگر اثاثہ جات کی انتہائی کم قیمت ادا کی، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ اگر اس کا موازنہ کشمیر کے علاقے ہولارٹ سے کیا جائے تو وہاں متاثرین کو کہیں زیادہ معاوضہ اور سہولیات فراہم کی گئیں، جیسے تعلیمی ادارے، کالجز، بہتر رہائش، روزگار کے مواقع وغیرہ، جبکہ کروٹ کے متاثرہ عوام کو ان سہولیات سے محروم رکھا گیا۔مزید یہ کہ مقامی حکومت اور پولیس کے دباؤ کے باعث لوگوں کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا، جس کے بعد وہ کہوٹہ کے قریب نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ان لوگوں کے پاس نہ قبرستان ہے، نہ بنیادی سہولیات، اور نہ ہی روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، حکومتِ پاکستان، وزیرِ اعظم پاکستان اور صوبائی وزیرِ اعلیٰ کی توجہ اس سنگین معاملے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ متاثرہ عوام کی حالت ناقابلِ قبول ہے۔ جب بھی یہ لوگ مقامی سرکاری دفاتر میں فریاد لے کر جاتے ہیں، کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا۔میں تمام متعلقہ حکام سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کا فوری اور منصفانہ نوٹس لیا جائے۔ بصورتِ دیگر ہم اس مسئلے کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے پر مجبور ہوں گے، بشمول عالمی میڈیا، وال اسٹریٹ جرنل اور عالمی مالیاتی اداروں تک رسائی۔ اس پراجیکٹ میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی، عوام کے ساتھ ناانصافی اور وسائل کے ضیاع کو دنیا کے سامنے لایا جائے گا۔اگر مزید معلومات درکار ہوں یا باضابطہ ملاقات مقصود ہو تو ہم ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں اور اپنے تحفظات براہِ راست پیش کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

Back to top button