DailyNewsGujarKhanHeadlinePothwar.com

Gujar Khan: Punjab’s New Local Government Act Sparks Criticism Over Democratic Backsliding

پنجاب کا نیا بلدیاتی ایکٹ: جمہوریت پر عدم اعتماد اور عوامی اختیار سے خوف

گوجرخان (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم ,: محمد نجیب جرال| 18 جنوری، 2026)–پنجاب میں نافذ کیا جانے والا نیا بلدیاتی ایکٹ اگر کسی چیز کی نمائندگی کرتا ہے تو وہ جمہوریت پر عدم اعتماد اور عوامی رائے سے خوف ہے۔ اسے جمہوری اصلاح کہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی قیدی کو زنجیر بدل کر آزادی کا سرٹیفکیٹ دے دیا جائے۔

سب سے پہلے تو یہ“دانشمندانہ فیصلہ”کہ بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، مگر منتخب ہونے کے بعد ممبران کو کسی نہ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ اگر آخرکار جماعت میں جانا ہی ہے تو یہ سارا ڈراما کیوں؟
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ناک سیدھی پکڑنے کے بجائے الٹا پکڑنے کی ضد محض اس لیے ہے کہ بعد میں خرید و فروخت کی منڈیاں سجائی جا سکیں، جہاں منتخب نمائندوں کی قیمت لگے اور ضمیر نیلام ہوں۔ یہ شق ن لیگ کی بدنیتی کو اس طرح بے نقاب کرتی ہے جیسے دن کی روشنی میں آئینہ۔

دوسری طرف، یونین کونسل کے منتخب ممبران خود ہی چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب کریں گے۔ یعنی عوام کو یہ اختیار بھی نہیں کہ وہ اپنے گاؤں، محلے یا شہر کا سربراہ خود چن سکیں۔
عوام پہلے ہی صدر اور وزیرِاعظم کے انتخاب میں براہِ راست شریک نہیں، اب بلدیاتی سطح پر بھی ان سے حقِ انتخاب چھین لیا گیا۔ جمہوریت اب ووٹ سے نہیں بلکہ فارمولوں اور فائلوں سے چلے گی۔

اس ایکٹ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے سول بیوروکریسی کے کنٹرول میں ہوں گے۔ یعنی وہ ادارے جو عوام کے مسائل کے حل کے لیے بنائے جاتے ہیں، ان کی باگ ڈور ایسے غیر منتخب افسران کے ہاتھ میں ہوگی جن کا عوام سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔
یہ وہی پرانا نوآبادیاتی نظام ہے جس میں عوام صرف رعایا ہوتے ہیں اور فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔

یہ سب کچھ دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آمر ضیائالحق کی گود میں پروان چڑھنے والی سیاسی قیادت اور اسی روایت کی وارث موجودہ قیادت کی سوچ جمہوری کیسے ہو سکتی ہے؟
نام بدل گئے، چہرے نئے ہیں، مگر سوچ آج بھی وہی ہے—عوام کو بااختیار بنانے سے خوف اور اقتدار کو چند ہاتھوں میں رکھنے کی خواہش۔

یہ بلدیاتی ایکٹ دراصل مقامی حکومت نہیں بلکہ مقامی غلامی کا نظام ہے۔ اس کی ہر وہ شق جو عوامی حقِ رائے دہی، شفافیت اور اختیار کے خلاف ہے، جمہوریت کے تابوت میں ایک اور کیل ہے۔
اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر آمریت اور جمہوریت میں فرق صرف اصطلاحات کا رہ گیا ہے۔

پنجاب کے اس کالے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف اگر کوئی آواز بلند ہو رہی ہے تو وہ صرف جماعتِ اسلامی کی ہے۔ حیران کن اور افسوسناک امر یہ ہے کہ باقی تمام نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتیں جو دن رات جمہوریت، ووٹ کی حرمت اور عوامی اختیار کے نعرے لگاتی نہیں تھکتیں اس سنگین معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے بیٹھی ہیں۔یہ خاموشی محض غفلت نہیں بلکہ رضامندی کا اعلان ہے، کیونکہ جب عوام کے بنیادی حقِ انتخاب پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہو اور اپوزیشن لب سی لے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ اصول کا نہیں، مفاد کا ہے۔ آج بلدیاتی نظام کو بے اختیار بنایا جا رہا ہے، کل یہی جماعتیں اس نظام کی کمزوری کا رونا بھی روئیں گی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو قوتیں ظلم کے وقت خاموش رہیں، وہ بعد میں جمہوریت کی وارث نہیں بن سکتیں۔

عوام کو سمجھنا ہوگا کہ یہ قانون ان کے مسائل حل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی آواز دبانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اور جب تک اس کالے ایکٹ کے خلاف اجتماعی شعور بیدار نہیں ہوگا، بلدیاتی ادارے عوام کے نہیں بلکہ اقتدار کے خادم ہی رہیں گے۔

Gujar Khan (Pothwar.com: Muhammad Najeeb Jarral | January 18, 2026)
The newly introduced Local Government Act in Punjab has triggered strong criticism from political observers and democratic activists, who argue that the law reflects deep mistrust in democracy and fear of public opinion rather than genuine reform.

Critics contend that describing the act as a “democratic reform” is misleading, comparing it to changing a prisoner’s chains while calling it freedom. One of the most controversial provisions is the decision to hold local government elections on a non-party basis, while requiring elected members to join a political party after winning. Observers question the logic of this arrangement, asking why elections are declared non-party if political affiliation is ultimately mandatory.

According to critics, this mechanism opens the door to political horse-trading, where elected representatives can be pressured or incentivized to switch loyalties. They argue that such provisions expose political bad faith and undermine transparency in the democratic process.

Another major concern is that chairmen and vice chairmen of union councils will be elected by council members themselves, rather than directly by the public. This effectively denies citizens the right to choose the leadership of their own villages, neighborhoods, or towns. With the public already excluded from the direct election of the president and prime minister, critics say this move further distances citizens from decision-making at the grassroots level.

The act is also criticised for placing local government institutions under the control of the civil bureaucracy. Detractors argue that transferring authority to unelected officials revives a colonial-style governance system, where citizens are treated as subjects and decisions are made without public accountability.

Political analysts note that despite changes in names and faces, the governing mindset remains unchanged—marked by a reluctance to empower the public and a preference for concentrating power in a few hands. They describe the new law not as a system of local governance, but as a framework of “local subjugation,” where provisions restricting public choice, transparency, and authority further weaken democratic norms.

Notably, opposition to the act has been voiced primarily by Jamaat-e-Islami, while other political parties that frequently champion democracy, the sanctity of the vote, and public mandate have remained largely silent. Critics view this silence not as negligence but as tacit approval, arguing that when fundamental democratic rights are undermined, and the opposition fails to respond, the issue is no longer about principles but political interests.

Observers warn that weakening local governments today will lead to future complaints about their inefficiency, but history shows that those who remain silent in times of injustice cannot later claim to be guardians of democracy.

Analysts conclude that the public must recognise that this law is not designed to resolve their problems but to suppress their collective voice. Until broad public awareness and resistance emerge against what critics describe as a “black law,” local government institutions are likely to remain servants of power rather than representatives of the people.

مرکزی پریس کلب دولتالہ کا اہم اجلاس، انتخابات 2026 سے متعلق بڑے فیصلے

Important Meeting of Central Press Club Daultala Held, Key Decisions Taken on Elections 2026

دولتالہ (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام، محمد نجیب جرال، 18 جنوری 2026)– مرکزی پریس کلب دولتالہ کا ایک اہم اجلاس زیرِ صدارت صدر محمد صدیق کیانی منعقد ہوا، اجلاس میں الیکشن مرکزی پریس کلب دولتالہ 2026 بارے اہم فیصلے ہوئے، اجلاس میں اخلاق احمد راجہ، عامر مقبول چوہدری، صغیر احمد چوہدری، عادل کیانی، راجہ ابوبکر، راجہ پرویز اختر، حبیب رزاق، راجہ رستم علی، راجہ عابد نسیم اور محمد نجیب جرال نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئندہ منعقد ہونے والے مرکزی پریس کلب دولتالہ کے انتخابات کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی اور اس ضمن میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
مزید برآں اجلاس میں نئے ممبران راجہ شہزاد، مرزا وقاص اور راجہ محمد اسحاق کی ممبرشپ کی باقاعدہ توثیق بھی کی گئی۔اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت محمد نجیب جرال نے حاصل کی، اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس اگلے جمعہ، 23 جنوری 2026 تک ملتوی کیا جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button