todays news آج کی خبریں

  • Kallar Syedan; Torch ( Mashal ) rallies taken out in Choa, Doberan and Sir sooba shah

    منگل کی شام میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں کلر سیداں ،چوآخالصہ ،دوبیرن کلاں اور سر صوبہ شاہ سے مشعل بردار ریلیاں نکالی گئیں جن میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔بعد نماز مغرب چوآ روڈ کلر سیداں سے مشعل بردار ریلی نکالی گئی جس کے شرکا درودو سلام پڑھتے ہوئے پنڈی روڈ ،تھانہ روڈ سے ہوتے ہوئے مین چوک پہنچے جہاں پر آتش بازی کی گئی جس کے بعد شرکا چوآ روڈ پر واقع نور مسجد میں پہنچے جہاں علمائے کرام نے خطاب کیا سیرت کمیٹی رجسٹرڈ چوآخالصہ کے زیر اہتمام بعد نماز مغرب جامعہ مسجد اکبری سے مشعل بردار ریلی نکالی گئی جو بنک چوک ،مین بازار ،لاڑی اڈہ سے ہوتی ہوئی مسجد نور مصطفی میں اختتام پذیر ہوئی جہاں علامہ محمد اقبال قریشی نے خطا ب کیا۔ااھر ڈھوک مغلاں،موہڑہ لنگڑیال،بیکڑ آباد ،چوڑا،انچھوہا ، ہر دوپنڈوڑہ سے مشعل بردار ریلیاں نکالی گئیں جو جامعہ مسجد گلزار مدینہ سر صوبہ شاہ میں اختتام پذیر ہوئیں جہاں مولانافیصل ندیم گیلانی نے خطاب کیا۔میلا د کمیٹی دوبیرن کلاں کے زیر اہتمام کھناہدہ سے مشعل بردار ریلی نکالی گئی جو دوبیرن بازار سے ہوتی ہوئی دفتر یونین کونسل میں اختتام پذیر ہوئی جہاں علمائے کرام نے خطاب کیا۔

    Kallar Syedan; Hundreds of people joined in the evening for Torch ( Mashal ) rallies taken out in Choa Khalsa, Doberan Kallan and Sir sooba shah region along with rest of Pothwar region on celebration of eid millad un nabi.

    بڑے جلوس چوآخالصہ کلر سیداں اور دوبیرن کلاں سے نکالے جائیں گے

    Largest millad procession to be taken out in Kallar and Doberan Kallan

    عید میلاالنبی ﷺ کے سلسلے میں آج برو ز بدھ تحصیل کلر سیداں کے درجنوں مقامات سے میلاد النبی ﷺ کا جلوس نکالے جائیں گے ،بڑے جلوس چوآخالصہ کلر سیداں اور دوبیرن کلاں سے نکالے جائیں گے ۔کلر سیداں میں جلوس کے اختتام پر قرعہ اندازی کے ذریعے عمرے کا فری ٹکٹ بھی دیا جائے گا ،مرکزی جلوس صبح نو بجے جامعہ مسجد مدنی مرید چوک سے شروع ہو گا جس میں درجنوں میلاد کمیٹیوں کے شرکا شرکت کریں گے ۔جلوس چوآ روڈ سے مین بازار ،مغل بازار سے ہوتا ہوا سپورٹس گراؤنڈ پہنچے گا جہاں پیر محمد ندیم سلطان قادری ،بلال حسین حیدری، قاری اجمل قادری ،وقاص سجاد اور دیگر خطاب کریں گے ۔دوبیرن کلاں کے جلوس میں بھی بذریعہ قرعہ اندازی عمرے کا ٹکٹ دیا جائے گا ،دن 12بجے مخدوم محمد جعفر قریشی کا خصوصی خطاب ہو گا جبکہ سیرت کمیٹی کے زیر اہتمام سر صوبہ شاہ سے چوآخالصہ تک جلوس نکالا جائے گا جس کے بعد دارلعلوم انوار القرآن میں جلسہ میلاد النبی ﷺ منعقد ہو گا۔

    کلر سیداں کے صحافی کاموٹر سائیکل چوری کر لیا گیا

    Journalist M Javed Iqbal motorbike stolen in Kallar 

    کلر سیداں کے صحافی کاموٹر سائیکل چوری کر لیا گیا،مقامی صحافی محمد جاوید اقبال نے اپنا موٹر سائیکل کلر سیداں شہر میں اپنے گھر کے سامنے کھڑا کیا جسے چند لمحوں میں ہی چرا لیا گیا ہے۔موٹر سائیکل چوری کی اطلاع تھا نہ کلر سیداں پولیس کو کر دی گئی ہے۔موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہونے سے عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    سرکاری راستہ پر رکاوٹ پیدا کرنے سے منع کرنے پر تین خواتین سمیت پانچ افراد نے دو بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا

    Five injured in a fight over right of public way in Dhok Sangal, Pind bainso

    سرکاری راستہ پر رکاوٹ پیدا کرنے سے منع کرنے پر تین خواتین سمیت پانچ افراد نے دو بھائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کلہاڑیوں کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی۔شہزاد امجد سکنہ ڈھوک سنگال پنڈ بہنسو نے مضروبی حالت میں پولیس کو بیان دیا کہ میں الیکٹریشن کا کام کرتا ہوں۔گزشتہ شام بعد نماز مغرب کام سے واپس آ رہا تھا اور جب قبرستان کے نزدیکی راستے پر پہنچا تو آگے محفوظ،ساجد،لطیفہ بی بی،شکیلہ بی بی اورروبینہ بی بی سکنائے پنڈ بہنسو سرکاری راستے میں کانٹے بچھا کر کھڑے تھے اور میرے آتے ہی مجھ پر حملہ آور ہو گئے اور مجھے شدید زخمی کر دیا ،کلر سیداں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے ۔

    سابقہ رنجش پر چا ر افراد نے تشدد کا نشانہ بنا پر باپ بیٹے کو مضروف کر دیا

    Father and son beaten up in Dhok Pharri, Banhal over long running feud 

    سابقہ رنجش پر چا ر افراد نے تشدد کا نشانہ بنا پر باپ بیٹے کو مضروف کر دیا۔طاہر حسین نے پولیس کو بیان دیا کہ میں ڈھوک پھری بناہل کا رہائشی ہوں اور زمیندارہ کرتا ہوں۔گزشتہ روز شام پانچ بجے کے قریب میں اپنے 15 سالہ بیٹے کے ہمراہ اپنی زمینوں پر ہل چلا رہا تھا کہ مسمی اسلم خان اور محمد اشرف نے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں،میں نے گالیاں نکالنے سے منع کیا تو اسلم نے مشتعل ہو کر پتھر اٹھا لیا اور مجھے مارا جو میری کمر پر لگا جس کے بعد ملزمان محمد اسلم،محمد اشرف،عنصر محمود،ارشدنے پتھروں کیساتھ حملہ آور ہو گئے جس سے میں اور میرا بیٹا زخمی ہوگئے۔

  • Reported By: Ikram Ul Haq Qureshi

  • Kahuta; Mollana Qari M Usman address at Jammia Masjid Makki

    مولانا قاری عثمان عثمانی کے زیر اہتمام دعائیہ محفل ۔حاجی عبد الوہابؒ اور مولانا سمیع الحق شہید کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کے بعد فاتحہ خوانی ۔تفصیل کے مطابق گذشتہ جامع مسجد مکی کہوٹہ میں معروف عالم دین مولانا قاری محمد عثمان عثمانی کے زیر اہتمام ایک دعائیہ محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں مدرسے کے بچوں نے قرآن خوانی کی اس کے بعدمولانا قاری محمد عثمان عثمانی، مولانا عبد الشکور حمادی ، مولانا عبد اللہ عباسی،مولانا خالد خلیل ،مولانا شفیق کاظمی ،مولانا حفظ عبد اللہ عابد،حافظ محمد رضوان نے ملک کے نامور عالم دین مبلغ اسلام اور تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبد الوہابؒ اور جمیت علماء اسلام کے رہنماء مولانا سمیع الحق شہید کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حاجی عبد الوہاب ؒ اورمولانا سمیع الحق شہید کی رحلت سے عالم پاکستان ایک بہت اچھے مبلغ دین سے محروم ہو گے ہیں ان کی ساری زندگی دین اسلام کی خدمت گزاری ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پر نہیں ہو سکتا۔

    رکن پنجاب اسمبلی پنجاب راجہ صغیر احمد آف مٹور کے صاحبزادے راجہ احمد صغیر کا دورہ سموٹ

    Raja Ahmed Sagheer visits Samot 

    رکن پنجاب اسمبلی پنجاب راجہ صغیر احمد آف مٹور کے صاحبزادے راجہ احمد صغیر کا دورہ سموٹ۔علاقے کی سیاسی وسماجی شخصیات ،اپنے ووٹروں سپورٹروں سے ملاقات۔ انشاء اللہ عوام کے تمام مسائل حل ہونگے ۔ میرے دادا حاجی باوا غلام فرید (مرحوم) نے ساری زندگی علاقے کی عوام کی خدمت کی میرے والد محترم رکن پنجاب اسمبلی راجہ صغیر احمد آف مٹوراپنے والد کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے عوام کی بے لو ث خدمت کر رہے ہیں انہوں نے کہا انشاء اللہ چند ماہ میں حلقے کی عوام ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی دیکھیں گے۔ اس موقع پر وائس چیئرمین یوسی سموٹ راجہ عرفان الحق ،نوجوان سیاسی وسماجی شخصیت انجنیئر راجہ بلال بنگیال،نوجوان سیاسی شخصیت راجہ عمران مینوں ،نوجوان سیاسی شخصیت ڈاکٹر وسیم نواز کیانی،چوہدری ارشاد ،چوہدری شہزاد پٹواری،چوہدری عابد کنڈ،چوہدری منصور چورا اور دیگر سیاسی وسماجی شخصیات موجود تھے ۔

    عمران خان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرارہ جواب دے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے

    Imran Khan's response to Trump delights Pakistani nationals 

    چیئرمین یوسی ہوتھلہ راجہ عامر مظہر امیدوار برائے تحصیل ناظم کہوٹہ نے اپنے آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرارہ جواب دے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے پاکستانی عوام بھی دنیا کے ساتھ عزت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور پاکستان دنیا کے برابر کے تعلقات چاہتا ہے کیونکہ ہم غیرت کا سودا نہیں کر سکتے سب سے پہلے پاکستان پھر پاکستانیوں کی عزت اور بھی دنیا کے ساتھ پاکستان کے مفادمیں جو بہتر ہو گا ان تعلقات پر ہر پاکستانی کی خوائش ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کے صدر کو جو جواب دے کر دنیا کو بتا دیا کہ اب پاکستان کسی کے اشارے پر نہیں چلے گا ناں پاکستان کے مفاد کے بغیر کسی کی مداخلت برداشت کی جائے گئی یہی غیرت مند قوم کی نشانی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی بہترین فوج رکھتا ہے اور ہماری فوج نے بہت سی قربانیاں دی ہیں پاکستان دہشت گردی کو ختم کر نے کے لیے بہت سی قربانیاں دے چکا ہے اور پاکستان کی مسلح افواج نے بہت مہارت سے پاکستان کے اندر دہشت گردی ختم کی ہے اوراس ملک کی خاطر افواج پاکستان ،سولین،سیکورٹی اداروں اپنی جانوں کے نذرانے دیے ہیں ۔انشاء اللہ ہمار ا پیار املک قیامت تک پابندہ رہے گا ۔

  • Reported By: Kabir Ahmed Janjua

  • Sir sooba shah; Millad cake cut at the residence of Khokar brothers

    سر صوبہ شاہ ڈھوک کھوکھراں،میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں رہائش گاہ حاجی محمد غیاث کھوکھر،محمد اشتیاق کھو کھر،عظمت نسیم کھوکھر پر محفل کا مختصر مگر جامعہ پر وگرام منعقد کیا گیا،جس میں ہر سال کی طرح امسال بھی کیک کاٹا گیا،محفل کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیر سید منصور حسین شاہ گیلانی اور مہتمم اعلیٰ محی اسلام پنڈوڑہ ہر دو خلیفہ حاجی محمد شریف نقشبندی نے عالم اسلام،خوش حال و استحکام پاکستان کے لئے دعا کی،اس موقع پر جنرل کونسلر حاجی راجہ قدیر سمیت عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کثیر تعداد نے شرکت کی،محفل کے اختتام پر کیک کے ساتھ بہترین لنگر تقسیم کیا گیا۔

     
  • Reported By: Ch Ulffat Hussain

  • Rawalpindi; Punjab government issues 40 Millions Rps for Punjab government employees

    پنجاب حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے راولپنڈی سمیت پنجاب کی سات پارکس اینڈ ہارٹیکلچراتھارٹیز کو پہلے کوارٹرکیلئے 175.701ملین روپے کی گرانٹ ریلیز کر دی ۔ذرائع کے مطابق ان سات اتھارٹیز کیلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 576.761ملین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ، فنانس ڈیپارٹمنٹ نے پہلے کوارٹر جولائی تا ستمبر 2018ء کیلئے جاری رقم میں ملتان پی ایچ اے کیلئے 75ملین روپے ، راولپنڈی کیلئے 40ملین ، ڈی جی خان ، ساہیوال پی ایچ اے کیلئے 11،11ملین ، سرگودھا کیلئے 16اور بہاولپور پی ایچ اے کیلئے 12ملین روپے جاری کئے ہیں ، عدلیہ کی طرف سے پبلک مقامات سے بل بورڈز کو ہٹانے کے فیصلے کے بعد سے ان اداروں کی بھی سالانہ کروڑوں روپے کی آمدن متاثر ہوگی جس سے ان اداروں کیلئے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہو چکی تھی ایسے میں حکومت کی طرف سے جاری رقوم کے بعد ان اداروں کو ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ کسی حد تک حل ہو جائے گا۔

  • Reported By: admin

  • Chakswari, AJK; Wajid Hussain tells we are left disappointed with PM Raja Farooq Haider policies

    پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میونسپل کمیٹی چکسواری کے رابطہ سیکرٹری واجد حسین آف لدڑ پینڈا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آزاد خطہ کی عوام وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سخت مایوس ہوگئے ہیں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان اپنے دورِ حکومت میں میگا اعلانات کے علاوہ عوام کے لیے کوئی میگا پراجیکٹس نہ دے سکے ۔اس لیے ان کی اپنی مسلم لیگ کے ورکر و کارکنان بھی مایوس ہیں ۔گزشتہ دورِ حکومت سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید نے عوام کے لیے میگا پراجیکٹس کے جال بچھا دیئے تھے جو مسلم لیگ حکومت سے برداشت نہ ہوئے اور بے شمار سکولز اور کالجز کو جو اپ گریڈ ہوئے تھے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر سکولز و کالجز کی اپ گریڈیشن کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کر کے علم دشمنی کا ثبوت دیا ۔ آل آزاد کشمیر سکولز کے اساتذہ کرام کو NTSکا لالی پاپ دے کر اساتذہ کرام کے سکیلز اپ گریڈیشن کو روک دیا جو اساتذہ کرام کے ساتھ مہنگائی کے اس دور میں ظلم و زیادتی ہے ہم اس کی بھر پور مزمت کرتے ہیں اور حکومت وقت سے بھر پور مطالبہ کرتے ہیں کہ سکولز ٹیچرز آرگنائزیشن کے تمام مطالبات فل فور منظور کر کے جلد از جلد عمل درآمد کروائیں۔

    حضرت الحاج محمدعارف نوشاہی قادری رحمتہ اللہ علیہ کادوروزہ سالانہ عرس مبار ک

    Urs Mubarak held in Tang Dio

    عاشق رسول صوفی باصفا حضرت الحاج محمدعارف نوشاہی قادری رحمتہ اللہ علیہ کادوروزہ سالانہ عرس مبار ک تنگ دیویونین کونسل فیض پورشریف میں منعقدہوا صاحب عرس کے درجات کی بلندی اوران کے روح کے ایصال ثواب کے لئے صاحب عرس کے فرزندان حاجی عطاء المصطفے حاجی فداء المصطفے اورحاجی حافظ رضاء المصطفے نے محفل نعت وشبینہ کے اہتمام کیاجس عوام علاقہ نے بھرپورشرکت کی صاحب عرس کے درجات کی بلندی اورایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کااہتمام کیاگیادعائیہ تقریب میں صاحب عرس کے درجات کی بلندی کے لئے خصوصی دعاکرائی گئی عرس کے انتظامات الحاج محمدریاست چوہدری الحا ج علی شان چوہدری چودھری محمدسوار خان چودھر ی محمدگل بہار کی زیرنگرانی کیے گئے صاحب عرس کے فرزندان صاحبزادہ حاجی عطاء المصطفے حاجی حافظ رضاء المصطفے اورحاجی فداء المصطفے نے عرس میں شرکت کرنے والے تمام مہمانان گرامی کاشکریہ اداکیاہے ۔

      اظہارتشکر

    عاشق رسول صوفی باصفاحضرت الحاج محمدعارف نوشاہی قادری رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند صاحبزادہ حا جی حافظ رضاء المصطفے نے اپنے والدمحترم الحاج محمدعارف نوشاہی قادری رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے دوروزہ سالانہ عرس مبارک کے موقع پرمسجدابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ ومدرسہ نوشاہیہ تنگ دیو میں منعقدہ محفل نعت وشبینہ میں بحیثیت مہمان خصوصی طورپرشرکت کرنے اورخصوصی خطاب کرنے پرعالمی مبلغ اسلام حضرت مولاناپیرمحمدحبیب الرحمن محبوبی سجادہ نشین دربارعالیہ فیض پورشریف سے خصوصی طورپراظہارتشکر کرتے ہوئے کہاکہ پیرطریقت رہبرشریعت عالمی مبلغ اسلام حضرت مولاناپیرمحمدحبیب الرحمن محبوبی سجادہ نشین دربارعالیہ فیض پورشریف نے میرے والدمحترم کے عرس مبارک کی محفل میں شرکت فرماکر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی ہے حا جی حافظ رضاء المصطفے نے عرس کی تقریبات کے انتظامات میں پرخلوص تعاون کرنے پرالحاج علی شان چوہدری چوہدری محمدگل بہار حاجی چودھری محمدسوار خان محمدامین مغل سہیل احمدخان راجہ ذوالفقار علی سمیت تمام شرکاء محفل نعت وشبینہ کاشکریہ اداکیاہے انہوں نے برادران حاجی عطاء المصطفے حاجی فداء المصفے اورتایاجان الحاج محمدریاست چوہدری سے عرس کی تقریبات کے کامیاب انعقاد میں ان کے پرخلوص تعاون پر ا ظہارتشکر کیاانہوں نے کہا کہ انشاء اللہ الحاج محمدعارف نوشاہی قادر ی رحمتہ اللہ علیہ کامشن جاری رہے گا اللہ د تہ بسمل نامہ نگارفیض پورشریف

     
  • Reported By: Hafiz Sher Yar Bismal

  • France; Hundreds injured as France fuel protests continue in to 3rd day

    فرانس میں پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری، مظاہرین کی جانب سے صدر ایمانوئل میکرون سے استعفیٰ تک مظاہرہ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے،پیر کی صبح ہزاروں افراد روڈ بلاک ہونے کے باعث تاخیر سے دفاتر اور تعلیمی اداروں میں پہنچے۔ فرانس ناٹ میں یلو جیکٹس والوں کا زور، ساوتھ میں بغدو میں بھی اکثر جگہ روڈ بلاک، گھنٹوں ٹریفک رکی رہی، فیول ٹیکس میں مسلسل اضافے اور ہوش رُبا مہنگائی پر ناراض لاکھوں فرانسیسی اتوار اور پیر کی درمیانی شب اور پیر کی صبح بھی سڑکوں پر موجود رہے، یلو جیکٹس پہنے احتجاج کرتے مظاہرین نے صدر میکرون کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور صدر سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا مظاہرین نے شاہراؤں، سڑکوں اور راستوں کو بلاک کر دیا اور رات بھی احتجاج کرتے گزاری، کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہروں کے دوران پولیس کی جھڑپوں میں ایک خاتون ہلاک اور تقریباً بارہ سو افراد زخمی ہوئے،تین سو پچاس سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے بعض اپوزیشن رہنمائوں کی طرف سے اظہار یکجہتی اور مظاہرین کے اجتماعات میں شرکت کی گئی۔

    France; Demonstrations in France over rising fuel prices have left more than 400 people injured, officials say, as protests spilled into a second day. The French interior ministry said that nearly 300 protesters were questioned, with 157 among them taken into custody. Some 288,000 people took part in Saturday's protests, the ministry said, with scores under way on Sunday. The demonstrators, known as the "yellow vests", have been setting up roadblocks across France. Many turned their anger on President Emmanuel Macron, who they accuse of being out-of-touch. He is yet to comment on the protests, and has seen his popularity slump in polls. 

    فرانس کے رہائشی مقامی لوگ اور تارکین وطن کے لئے اگلے سال فرانس نئے فیز میں داخل ہو جائے گا

    Residents of France to enter new phase from next year 

    فرانس کی حکومت نے آئندہ سال سے بعض اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانس کے رہائشی مقامی لوگ اور تارکین وطن کے لئے اگلے سال فرانس نئے فیز میں داخل ہو جائے گا۔ ٹیکس ڈپارٹمنٹ نئے قوانین اور اسے کنٹرول کرنے کیلئے ایک نئی پولیس(Police Fiscal) متعارف کروانے جا رہا ہے۔ جنوری2019ء سے بینک تمام سرکاری ادارے جو عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں جیسے CAF(فیملی سوشل بینیفٹ کا ادارہ)RSA(بے روزگاری الائونس کا ادارہ اورPour le Empoly (کام دینےکا ادارہ) کے اکائونٹ کی تفصیل خود بھیجے گا، پہلے یہ بینک سے مانگنا پڑی تھی اب بینک پابند ہوں گے کہ وہ تمام تفصیل ان ڈپارٹمنٹس کو بھیجے۔ اب آپ کی چھٹیاں بھی کنٹرول ہوں گی، گورنمنٹ سے سوشل بینیفٹ لینا اور بلیک میں کام کرنا سب بند ہو جائے گا۔ اخراجات کو کنٹرول کیا جائے گا۔ فیس بک، ٹویٹر اور انسٹا گرام کے ذریعے لوکیشن اور آپ کی عیاشیوں کا تخمینہ لگایا جائے گا۔ انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کو کنٹرول کیا جائے گا اور اس سے حاصل انکم ڈیکلیئر کرنا پڑے گی۔ اب مہنگی گاڑیوں میں پھرنے والوں کو بھی کنٹرول کیا جائے گا، وہ بچ نہیں سکیں گے۔ جن کی آمدن اور اخراجات میں توازن نہیں ہوگا وہ ٹیکس کنٹرول پولیس (Police Fiscal)تمام ایشوز کو ہینڈل کرے گی۔ ٹیکس خور اور انکم چور کی تشہیر کی جائے گی۔ ان کو اخبارات کے

    ذریعے بدنام کیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ دوسروں کو سبق ملے وہ تمام ایسے افراد جن کی انکم غیر قانونی ہے مشکل میں پڑ جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق ڈرگ مافیا سب سے بڑا ہدف ہوگا۔

  • Reported By: Zahid Mustafa Awan

  • مدینہ منورہ ،ایک چنیدہ ریاست,(ماہ ربیع الاول کے حوالے سے خصوصی تحریر)

    بسم اﷲ الرحمن الرحیم مدینہ منورہ ،ایک چنیدہ ریاست (ماہ ربیع الاول کے حوالے سے خصوصی تحریر) ڈاکٹر ساجد خاکوانی

    حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون کے سامنے جب اپنی دعوت ،معجزات اور مقصد بعثت بیان کیا تو اس پر جو فوری ردعمل سامنے آیا اس کے بارے میں قرآن کہتاہے ’’قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمOٌیُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنOَ(سورہ اعراف،آیات109,110)،ترجمہ:اس پر فرعون کی قوٍم کے سرداروں نے آپس مٍیں کہا یقیناََیہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے ،تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتاہے‘‘۔مصر کے ذہین سردارفوراََ یہ بات سمجھ گئے کہ اس شخص کے مقاصد میں زمین پر قبضہ کرنا بھی شامل ہے اور بلآخریہ ہمیں ریاست سے بے دخل کر کے اقتدارحاصل کرنا چاہتاہے۔پس انبیاء علیھم السلام جس پروگرام کے تحت اس زمین پر مبعوث کیے گئے اور جس ایجنڈے کے تحت انہوں نے اپنی جدوجہد کو جاری و ساری رکھااس میں نظام سیاست کی تبدیلی بذریعہ حصول اقتدار شامل تھی۔خود ختمی مرتبت ﷺ کی یہ دعا قرآن مجید نے نقل کی ہے کہ’’ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًاO ترجمہ:اوردعاکرو کہ پروردگارمجھ کو جہاں بھی لے جاتو سچائی کے ساتھ لے جااور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے‘‘(سورہ بنی اسرائیل،آیت80)۔پس اسی مطلوب قتدار کے لیے مدینہ طیبہ کی ایک ریاست محسن انسانیت ﷺ کے لیے تیارکی گئی۔
    مدینہ منورہ کی ریاست انسانی تاریخ کی پہلی ریاست ہے جو کسی تحریری دستور کی بنیاد پر وجود میں آئی۔اس سے پہلے بھی قبیلہ بنی نوع انسان میں کتنی ہی ریاستیں وجود میں آتی رہیں اور مٹتی رہیں بڑی سے بڑی بھی اور چھوٹی چھوٹی بے شمار ریاستیں اس کرہ ارض کے صفحہ قرطاس پر اپنا وجود منواتی رہیں اور پھر تاریخ انسانی کے صحیفوں میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکیں لیکن مدینہ منورہ عالم انسانیت کی وہ پہلی ریاست بنی جس کی بنیاد ایک تحریری دستاویز’’میثاق مدینہ‘‘پراستوارکی گئی،اور اسی میثاق کی بنیاد پر محسن انسانیتﷺاس ریاست کے حکمران مقرر ہوئے۔میثاق مدینہ کی آخری شق یہی تھی کہ کسی بھی اختلاف کا آخری فیصلہ محسن انسانیت ﷺ کریں گے۔یہ تحریری دستورمحض دکھاوے کاورق نہ تھا بلکہ اس کے مطابق ریاست مدینہ کا نظم و نسق چلایاگیااور بے شمار مواقع پر اس دستور کے مطابق فیصلے کیے گئے اور جن جن فریقوں نے اس دستور کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف تادیبی کاروائی بھی کی گئی جیسے غزوہ احزاب کے موقع پر بنی قریظہ کے یہودیوں نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی تو غزوہ کے فوراََ بعد ان کا قلع قمع کر دیا گیا۔ 
    ریاست مدینہ تاریخ انسانی کی پہلی ریاست تھی جو کثرت مذاہب،کثرت قوام اور کثرت لسان پر مشتمل ایک کثیرالمذہبی،کثیرالقومی اور کثیرالسانی معاشرے پر مشتمل تھی۔اس ریاست میں خود مسلمان اگرچہ اکثریت میں تھے لیکن اس کے باوجود گروہی شناخت ان کے دامن گیر رہی،انصارومہاجرین ے دوبڑے بڑے گروہ مسلمانوں کے تھے پھر مہاجرین میں سے قریش اور غیر قریش لوگ بھی موجود تھے جیسے حضرت بلال ،حضرت سلمان فارسی وغیرہ غیرقریشی مہاجرین تھے ۔انصاری مسلمان اوس اور خزرج میں تقسیم تھے ،اس پر مستزادخود مسلمانوں کا گروہ کثیر منافقین و مومنین کے درمیان بٹا ہواتھاجس پر قرآن مجید نے بڑے سنگین قسم کے تبصرے کیے ہیں۔غیر مسلموں میں سب سے بڑی اقلیت یہود تھے جو اقلیت میں ہونے کے باوجوداپنے مال و اسباب اور اثرورسوخ میں اکثریت سے کسی طور کم نہیں تھے،اور اپنی اس حیثیت کو مسلمانوں کے برخلاف استعمال کرنے میں کبھی نہیں چوکتے تھے۔اتنے بڑے انسانی تنوع کے ساتھ اس آسمان نے پہلی بار اس زمین کے سینے پرکوئی ریاست بنی ہوئی دیکھی اور کامیابی سے چلتی 
    ہوئی بھی دیکھی۔آج کی دنیاؤں میں قائم اس طرح کے معاشرے تعصب اور فرقہ ورانہ اور نسلی فسادات سے بھرے پڑے ہیں،دنیاکے مہذب ترین سیکولریورپی معاشرے اپنے ہی ہم فکرسیکولرایشیائیوں کو برداشت نہیں کرتے اور وقتاََ فوقتاََان پر چڑھ دوڑتے ہیں لیکن مدینہ منورہ کی اس کثیرالقومی وکثیرالمذہبی ریاست میں اس نوع کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیااورمواخات کے درخشاں باب نے تو جیسے اس معاشرے کے افراد کو تسبیح کی طرح ایک دھاگے میں پرو سا دیا تھا۔
    ریاست مدینہ دنیاکی اولین ریاست تھی جس قانون سب کے لیے تھااور سب انسان قانون کی نظر میں برابر تھے۔ریاست مدینہ کی تشکیل وتاسیس تک تو کسی ریاست نے اس بات کا دعوی بھی نہیں کیاتھااس کے ہاں سب برابر ہیں لیکن اس کے بعد آج کی ریاستوں میں کاغذی دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن قانون سب کے لیے یکساں کا رواج عملاََکہیں بھی موجود نہیں ہے۔عیسائی راہبات کے لیے سکارف کی اجازت ہے جبکہ مسلمان خواتین کے لیے اس قانون میں کوئی گنجائش نہیں،گوروں کے لیے مالیاتی و سفارتی قوانین الگ ہیں جبکہ کالوں کے لیے اور سانولوں کے لیے مطلقاََجداجداہیں جبہ ریاست مدینہ ایسی ریاست تھی جس میں مسلمان قاضی ریاست کا فیصلہ یہودی کے لیے برات کا تھااورمسلمان کے لیے گردن زدنی کا تھا۔جب محسن انسانیت ﷺ سے مجرم کے لیے قانون میں رعایت مانگی گئی تو فرمایامیری بیٹی بھی ایساجرم کرتی تو یہی سزا پاتی۔بذات خود عمر کے آخری ایام میں مسلمانوں کے درمیان براجمان ہوئے اور فرمایا میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو تو بدلہ لے لے۔قانون کی نظر میں سب کی مساوات نے ہی اس معاشرے کو عدل فاروقی کی منزل سے روشناس کرایا۔
    ریاست مدینہ دنیا کی وہ اولین ریاست تھی جودیگرریاستوں سے مزاکرات پر یقین رکھتی تھی،میثاق مدینہ کا ذکر ہو چکاجومزاکرات کا ہی نتیجہ تھا۔غزوہ خیبر میں فتح مند ہونے کے بعد اس وقت تک کے رواج کے مطابق مفتوح قوم کی قتل و غارت گری ہونی تھی،بچ جانے والوں کو لونڈی غلام بنایاجاناتھااور اس قوم کی املاک و جائدادسب فاتحین کا حق تھا لیکن آسمان انگشت بدنداں تھا کہ فاتح نے مزاکرات کی بساط بچھائی اور مفتوح کو اپنے سامنے برابر ی کی بنیاد پر بٹھاکر ان سے مزاکرات کیے ،مفتوحین کا سب کچھ انہیں لوٹاکر نصف پیداوارپر معاہدہ طے پاگیا۔فصل تیارہونے پرمسلمانوں کانمائندہ پہنچااورپیداوارنصف کی اور مفتوحین سے کہا کہ جوحصہ چاہو لے لواور جو چھوڑ دو گے وہ ہم لے جائیں گے۔گویا ریاست مدینہ کے مزاکرات مفتوح و مجبوراقوام پر احسان مندی کا ذریعہ تھے نہ کہ آج کی نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردارسیکولرازم کی پروردہ ریاستوں کی مانندجن کے مزاکرات سوائے ڈھونگ کے کچھ نہیں اور جن کے مقاصدظالم کو مہلت مزید دے کر مجبورو مظلوم سے حق زندگی تک کا چھین لینا ہے۔ریاست مدینہ نے بیعت رضوان کے باوجود جنگ کو روک کر دشمن تک سے مزاکرات کیے اورتحریری صلح نامہ پردستخط کرنے سے پہلے بھی ثابت کیاکہ مزاکرات میں قول و قرارہو چکنے کے بعد پھر کسی رو رعایت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
    ریاست مدینہ کی ایک اور شانداربنیاد’’مشاورت‘‘تھی،آج صدیوں کے بعد جمہوریت کے نام پر اکثریت کی بات کو تسلیم کرنے کا رواج پیداہوا جبکہ ریاست مدینہ کا حکمران محسن انسانیت ﷺنے تاریخ انسانی میں سب سے پہلے اپنی رائے کی قربانی دے کر اور اکثریت کی رائے پر فیصلہ کر کے ثابت کیاکہ جمہورکا فیصلہ قابل اقتداہواکرتاہے جبکہ یہ وہ دور تھا جب دنیائے انسانیت میں سرداری و بادشاہی نظام نے پنجے گاڑھ رکھے تھے اور حکمران سے اختلاف تو بڑی دور کی بات تھی اس کے سامنے بولنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔گویا اس وقت کے بادشاہوں کی تلوارآج کے سیکولرممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی مانند تھی کہ جس نے اختلاف کیااس کا وجود ہی دنیا سے عنقا کردواور اوپر سے جمہوریت اورآزادی رائے اوربے باک صحافت کاراگ الاپ کر دنیاکو خوب بے وقوف بناتے رہولیکن ریاست مدینہ کا وجود صحیح آزادی رائے کا مجسم نمونہ تھاجس میں معاشرے کے ہر طبقے خواہ وہ غلام ہوں ،خواتین ہوں یابدیسی شہری ہوں سب کو اپنے مافی الضمیرکے اظہارکے مکمل مواقع میسرتھے اور ان پر کوئی قدغن نہیں تھی۔فجرکی نماز کے بعد محسن انسانیت مسلمانوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ جاتے اور مردوخواتین میں سے جو بھی جو کہناپوچھناچاہتااسے ادب و احترام کی حدود کے اندر مکمل آزادی تھی۔
    ریاست مدینہ منورہ کی مدح و ستائش میں دفترلکھے گئے،لکھے جا رہے ہیں اور تاقیامت لکھے جاتے رہیں گے۔فتح مکہ ،ریاست مدینہ کا فیصلہ کن وتاریخ ساز اقدام تھاجس کے بعد انسانیت نے شرک کے اندھیروں سے نرتوحید کی طرف اپنے سفر کی تاسیس نو کی۔فتح مکہ کے بعد قیام پاکستان تاریخ اسلام کا سب سے بڑا واقعہ ہے ،لفظ مدینہ کا مطلب رہنے کی جگہ ہے اورطیبہ کا مطلب پاکیزہ ہے جبکہ یہی مطلب لفظ’’پاکستان‘‘کا بھی ہے ،ایستان رہنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور پاک کا مطلب پاکیزہ ہے،ریاست مدینہ کے سبق کااولین باب ہجرت ہے اور پاکستان کا مقدمہ بھی ہجرت سے شروع ہوتاہے،ریاست مدینہ منورہ کے دونوں جانب ایران و روم کی بڑی بڑی طاغوتی ریاستیں تھیں جبکہ پاکستان بھی روس اور امریکہ کی کالونیوں میں گھراہواہے،ریاست مدینہ کے قیام کے ساتھ ہی منافقین اس کے درپے آزار ہوئے اور کچھ یہی حال وطن عزیزپاکستان کا بھی ہے، ریاست مدینہ کے اولین باشندے جس جگہ سے ہجرت کر کے اپنے دینی وطن میں وارد ہوئے تھے اس جگہ کے فراعین نے آخری وقت تک ریاست مدینہ کو تسلیم نہیں کیا،وطن عزیز پاکستان کی بھی صورتحال اس سے کچھ مختلف نہیں۔آج کے’’ دانشور‘‘ ریاست مدینہ کے وقت موجود ہوتے توحالات کے زیروبم سے وہ یہی نتائج اخذکرتے کہ ’’زمینی حقائق‘‘بتاتے ہیں یہ ریاست اپناوجود برقرارنہیں رکھ سکے گی لیکن تاریخ نے ثابت کیاکہ جس طرح وقت کے ابوجہل و ابولہب یہودکی دولت وثرت کے ساتھ مل کر بھی ریاست مدینہ کا کچھ نہیں بگاڑسکے اسی تاریخ کا پہیہ چلتے ہوئے وقت کو پھر دہرائے گااور وطن عزیزاسلامی جمہوریہ پاکستان جو دنیا کے نقشے پر ایک مسجدکاسا تقدس رکھتاہے اسلامی نشاۃ ثانیہ کا ہروال دستہ ثابت ہوکرخلافت علی منہاج نبوت کا سامان میسر کرے گا انشاء اﷲ تعالی۔

    Picture of the day     20/11/2018 View of Bhata Masjid

  • Reported By: admin


گزشتہ دنوں کی خبریں ..
Previous Days News