articles

ہم پلاسٹک کھا اور پی رہے ہیں ,عبدالجبار دریشک

ہماری زیادہ تر روز مرہ استعمال کی اشیاء پلاسٹک ہی بنی ہوتی ہیں۔ جن کو ہم استعمال کے بعد پھینک دیتے ہیں یا پھر ہفتہ ، مہینہ ، یا کئی ماہ استعمال کے بعد اس کی جگہ وہی پلاسٹک کی بنی دوسری نئی چیز لے آتے ہیں۔ ہمارے ماحول کو پلاسٹک کی بنی اشیاء نے بھی کافی حد تک متاثر کیا ہے جس میں پلاسٹک کے بیگ ، کھانے پینے کے ڈسپوزل برتن ، ڈرنک وغیر پینے کے لیے پلاسٹک کا سٹرا استعمال۔ ماہرین ویسے عام طور پر ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ پلاسٹک کی تھیلیوں میں کھانے پینے کی چیزیں نہیں رکھنی چاہیے ۔ عموماً ہم بازار سے دودھ ، دہی ، سالن ، کھلا جوس پلاسٹک کی تھیلیوں میں خرید لاتے ہیں جو ہمارے لیے غیرمحفوظ ہے، پلاسٹک کی تھیلیوں میں کھانے پینے کی اشیاء ڈالنے سے اس پلاسٹک کے خطرناک اجزاء ان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں صرف اتنا ہی بتایا جاتا ہے۔ اب اس سے ذرہ آگے چلتے ہیں پلاسٹک کے بیگ اور تھیلیاں خطرناک جو ہیں سو ہیں لیکن بازار سے خریدہ گیا پانی جسے ہم محفوظ تصور کرتے ہیں وہ بھی غیر محفوظ ہے۔

پانی کی پلاسٹک بوتلوں میں پلاسٹک کے اجزاء شامل ہونے کے حوالے سے ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک بوتل میں تقریباً 10.4 ملی مائیکرو پلاسٹک پارٹیکلس پائے گئے۔ ان ذرات میں پولی پروپائلین ، نائلون اور پولی تھائی لین شامل تھی. یہ ذرات عموماً بوتل کے ڈھکن بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس تحقیق کو امریکا میں نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی نے انجام دیا اس تحقیق میں گیارہ ممالک جن میں امریکا ، چین، برازیل، انڈونیشیا، کینیا، لبنان، تھائی لینڈ ، میکسکو اور بھارت شامل تھا کے 11 ناموار پانی کے برانڈ شامل تھے ان پر تحقیق کی گئی۔ اس تحقیق میں 27 لاٹوں میں کل 259 بوتلوں کو شامل کیا گیا۔ جس میں یہ ثابت ہوا کہ ہر پانی کی بوتل جس کی گنجائش ایک سے ڈیڑھ لیٹر تھی اس میں 10.4 ملی مائیکرو پلاسٹک پایا گیا۔ 

یہ تو صرف پانی پر تحقیق ہوئی ہے بازار میں سوفٹ ڈرنک اس سے بھی کہیں زیادہ فروخت ہوتے ہیں وہ بھی پلاسٹک کی بنی ہوئی بوتل میں فرخت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں منرل واٹر فروخت کرنے والی کمپنیوں کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اس میں زمینی پانی کو نکال کر فروخت کرنے پر سماعت زیر بحث ہے، اور پانی کے میعار پر بھی کیس چل رہے ہیں لیکن اب اس تحقیق کو مدنظر رکھ کر یہ بھی تحقیق کی جائے کہ پاکستان میں پانی کی فروخت میں استعمال ہونے والی بوتل کس قدر معیاری ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہم پلاسٹک پانی کی بوتلوں کی وجہ سے پی رہے ہیں۔ بلکہ بہت ساری کھانے کی اشیاء کے ساتھ ہم پلاسٹک کھا بھی رہے ہیں اور لگا بھی رہے ہیں۔ ہماری ضرورت کی بہت ساری اشیاء جن میں پلاسٹک شامل ہوتا ہے جیسے شیمپو، میک اپ سامان، شیونگ جیل، دانتوں کی پیسٹ اور اس طرح کی درجنوں اشیا میں مائیکرو پلاسٹک استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمیں ان اشیاء کی خریداری کے وقت دھیان دینا چاہیے کہ جو اشیاء خرید رہے ہیں ان کے اجزا میں پی ای، پی پی، پی اے اور پی ای ٹی نہ لکھا ہو وہ خریدی جائیں۔ 

دنیا میں بہت ساری کمپنیاں پلاسٹک کے کم سے کم استعمال بارے سوچ رہی ہیں اب ماحول دوست بیگ تیار کیے جارہے ہیں جو پانی اور مٹی میں جذب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایسے ہی میکڈونلڈ اور سٹار بکس جیسی بڑی کمپنیاں پلاسٹک سٹرا کی جگہ جلد ہی ماحول دوست سٹرا متعارف کروانے والی ۔ ٹوتھ برش کے حوالے نئی پیش رفت ہوئی ہے کہ ہمیں ماہرین ہر تین ماہ بعد برش تبدیل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ بات صحت کے لیے تو ٹھیک ہے لیکن اس سے دنیا میں اچھا خاصا پلاسٹک کچرا پیدا ہو رہا ہے۔ اب مارکیٹ میں لکڑی کے بنے برش بھی آ چکے ہیں۔ 

دنیا کے بہت سارے ممالک پلاسٹک کا استعمال یا تو کم کر رہے ہیں یا اسے ترک کرتے جارہے ہیں۔ کچھ ممالک پلاسٹک کی باقیات کو ہر جگہ پھیکنے کی بجائے اسے جمع کر کے صیح طور پر ری سائیکل یا تلف کرنے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس میں انڈونیشیا نے اپنے میں ملک میں ایک منفرد سیکم متعارف کروائی ہے انڈونیشیا اپنے دوسرے بڑے شہر سورابایا میں پلاسٹک کی باقیات سے نجات پانے کے لیے تحت اپنے شہریوں کو بسوں میں پیسے ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے دینے کی بجائے پلاسٹک کی باقیات لے کر اس کے بدلے سفر کرنے کی آفر دی ہے، ہر شہری پلاسٹک کی استعمال شدہ بوتیں اور پلاسٹک کی دیگراستعمال شدہ چیزیں جو 10 پلاسٹک یا شیسے کے 5 ناکارہ کپ، گلاس یا ان کے برابر اشیاء دے کر سفر کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں ۔ جس کے بدلے شہری مفت ٹکٹ حاصل کرتے ہیں اور اس ٹکٹ سے اپنی منزل کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ انڈونیشیا میں یہ سکیم رواں سال اپریل میں شروع کی گئی تھی۔ شہر کے اندر چلنے والی ٹرانسپورٹ بسوں میں شہری شیشے اور پلاسٹک کی بوتلوں کے عوض ٹکٹ لے سکتے ہیں۔ اب انڈونیشیا میں بہت سے شہری روزانہ کی بنیاد پر پلاسٹک کی اشیاء کے عوض سفر کرتےہیں۔

ہمیں بطور صارف اب آپ سے ہی پلاسٹک کے استعمال میں کمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ ہم کوشش کریں پلاسٹک کی بجائے لکڑی یا بانس سے بنے برش خریدیں بلکہ ہماری مارکیٹ میں یہ برش متعارف ہونے چاہیں ہم چائینہ سے منگوانے کی بجائے لکڑی کے بنے برش اپنے ملک میں تیار کر کے فروخت کریں۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کے لیے پلاسٹک برتنوں کا استعمال کم سے کم کریں۔

Picture of the day      27/10/2018      Daryala Segan school

Show More

Related Articles