articles

لاؤ لا ئی ۔تحریر عبدالجبار خان دریشک

جب کسی دور میں موبائل نہ تھا اگر تھا تو اس میں آنکھ نہ تھی ، ویسے تو شرم آنکھ میں ہوتی ہے لیکن کیمرے والے موبائل کی آنکھ میں کوئی شرم نہیں ہوتی ‘یہ واحد آنکھ ہے جس میں شرم نہیں ہوتی حالانکہ ہے بھی یہ واحد یعنی ایک آنکھ ، پھر موبائل کمپنیاں سمارٹ فون کی واحد آنکھ کی بے شرمی سے تنگ آگئیں توانہوں نے سوچا انسان کی دو آنکھیں ہیں ان میں شرم اور شر کے ساتھ شرمندہ کا بھی عنصر پایا جاتا ہے کیوں نہ موبائل کو دو آنکھیں لگا دی جائیں اور وہ آنکھیں ہو ں بھی انسان کی آنکھ سے دوقدم آگے ہوں۔
انسان ہمیشہ ایک رخ دیکھتا ہے اسے آگے نظر آتا ہے پر پیچھے نظر نہیں آتا ، یوں سمجھیں انسان کے آگے اجالا ہے تو اس کے پیچھے اندھیرا ، وجہ ، جناب وجہ یہ ہے انسان کی پیچھے آنکھ نہیں ہوتی اور سمارٹ فون کے آگے پیچھے اجالا رہتا ہے ‘اور آگے پیچھے دیکھنے کے بعد تصویر کے دو رخ دیکھا دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی آنکھوں میں شرم نہ آئی۔ پھرمو بائل کمپنیوں نے فون میں دو آنکھوں کے بعد تیسری آنکھ صرف شرم ، شر، شرمندہ ہونے کے لیے لگا دی۔ لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا شرم نہ آئی اور وہ سمارٹ فون بے شرم بن گیا جس کی تین آنکھیں بھی تھیں ، میں غلط تو نہیں کہے ریا‘ جس میں شرم نہیں ہوتی اسے بے شرم کہا جاتا ہے نہ۔

ہاں تو جناب بات گزرے زمانے کی ہو رہی تھی موبائل آنکھ والے نہیں تھے بلکہ تھے ہی نہیں بس تار والے فون تھے فون کیاتھے وہ تو تار کے ساتھ بندھے رہتے ‘ جیسے واٹر کوالر کے ساتھ بچارہ گلاس زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے کہ وہ اس کوالر سے جدا ہو گیا تو کوالر یتیم ہو جائے اور جو گلاس ساتھ لے جائے گا وہ صاحب اولاد ہو جائے گا، دوبارہ آنکھ کی طرف آتا ہوں ، گزرے زمانے میں مصنوعی آنکھ بازار میں ہوتی تھی۔آنکھ کے ساتھ مونث کے امدادی حروف لگتے ہیں تو اس طرح مونث امدادی حروف کے بعد مصنوعی آنکھ بازاری ہوئی نہ۔ جس میں شرمی اور بے شرمی پردے کے پیچھے بے پردگی سے ہوتی تھی ، مطلب موبائل فون کے بغیر آنکھ کیمرے میں ہوتی تھی اور کیمرہ ہر کسی کے پاس نہیں بازار میں دوکانوں پر ہوتا تھا ، اس وقت انسان اپنی شکل آئینے میں دیکھاتا تھا یا اس آنکھ کے بنے عکس میں یعنی تصویر میں ، وہ تصویر بھی ہمیشہ پردے کے پیچھے ‘پردہ نشیں کو بے پردہ کر کے بنائی جاتی تھی، پر آج کے دور میں نہ پردہ رہا نہ پردہ نشیں ، نہ ہی شرم والی آنکھ 
جب بازاری آنکھ یعنی اس کیمرے سے تصاویر اترواتے تھے تو اس کی جلد دستیابی کی بجائے انتظار کی گھڑیاں کاٹنے کا وقت مقرر کیا جاتا

جو شخص وقت مقرر پر اپنا عکس وصول نہ کرنے آتا تو وہ دوکاندار بڑا پریشان رہتا کہ محترم اپنی اس کاغذی لاش کو کب وصول کرنے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ اور تو اپنی دوکان پر سارا دن اڈ کوٹھے اتوں کاواں وے سنتا رہتا ، اس وقت کچھ پیسے ایڈونس دینے پڑتے تھے ‘پھر بھی سارا بقایا کاغذی لاش کو برآمد کرنے پر ادا ہوتے تھے۔ لیکن زیادہ عرصہ گزار جانے کے بعد دوکاندار بھی اس کاغذی لاش کو دوکان کے فرنٹ شیشے پر اسے الٹا لٹکا دیتے ‘اور یہ لاش تب تک الٹی لٹکی رہتی جب تک ورثا تک اطلاع پہنچتی اور وہ پیسے ادا کرنے کے بعد اپنی لاش یا بہت ساری کاغذی لاشییں وصول کرنے کے لیے نہ آتے۔ بعض تو لوٹ کر ہی نہ آتے اور یہ لاش ایسی الٹی لٹکی رہتی جیسے بجلی کی تار کے ساتھ مردہ کوا الٹا لٹکا ہوتا ہے۔ تب اس وقت شرمندہ کرنے اور اپنی سرمایہ کاری کو واپس لانے کا یہ ایک طریقہ تھا ‘شرمندہ مطلب شیم ، اور یہ ایک ریل آف شیم کی ایک شکل تھی 
قرض کے بارے میں کہا جاتا ہے قرض مرض ہے لیکن اس کے لیے مرض ہے جس کی آنکھ میں شرم ہے جس کی آنکھ میں شرم نہ ہو اس بے شرم کو اس مرض کا اثر نہیں ہوتا ، قرض کی وصولی میں عموماً پہلے منت سماجت سے کام لیا جاتا ہے ، اس سے بھی مسئلے کا حل نہ نکلے تو شرمندہ کر کے عزت کی کھال اتاری جاتی ہے اور پھر بھی وصول نہ ہو تو ظالم صرف کھال آتارتے ہیں۔ لیکن قرض کی وصولی کا ایک انوکھا طریقہ چین میں اپنایا جارہا ہے جس کو ریل آف شیم کا نام دیا گیا ہے۔ 

چین کے صوبے سچوان کی ہچیانگ کاونٹی میں قرض کی وصولی کے اس انوکھے طریقے کا استعمال سینما گھر میں کیا جارہا ہے، سینما میں فلم کا شو شروع ہونے سے پہلے وقفے کے دوران اور آخر میں ان لوگوں کی تصاویر دیکھائی جاتی ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بے شرمی دیکھا رہے ہوں۔ سینما کی سیکرین پر ایک کارٹون آکر کہتا ہے آؤ دیکھو یہ ہیں لاؤلائی ، لاؤلائی مطلب قرض خور جس نے قرض دینا ہو اور وہ بے شرمی کا مظاہر کر رہے ہوں ، کارٹون اتنا کہتا ہے اور پھر ان بے شرموں کی تصاویر سکرین پر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ہی نہیں بلکہ ریل آف شیم کی پالیسی کے تحت ایسے بے شرموں کو بلیک لسٹ کر کے ، ان کو پبلک مقامات پر شرمندہ کرنے کے علاوہ سفر کرنے پر بھی پابندی لگا گئی ہے اوران بے شرموں کا پیچھا ہر جگہ کیا جاتا ہے 
اب دیکھنا یہ ہے اس ریل آف شیم سے کتنے بے شرم قرض واپس کرتے ہیں اور یہسکیم کتنی کارگر رہتی ہے آیا ان بے شرموں کو شرم آتی بھی ہے یانہیں، لیکن جو بے شرم دولت مند ہونے کے باوجو قرض معاف کروا کر ملک و قوم کا نقصان کر چکے ہوں ان پر ریل آف شیم کا اثر کبھی بھی نہیں ہوگا ۔

Show More

Related Articles