Our _Blog_

Our Daily News

اپنے شوہر کی لائف انشورنس پالیسی حاصل کرنے کے لئے قتل کرنے پر رخسانہ بی بی اور اس کے آشنا محمد عارف کو تاعمر قید

ایکرنگٹن، برطانیہ میں پینسٹھ سالہ محمد یوسف اپنی ہی اڑتیس سالہ اہلیہ کے ہاتھوں قتل

M Arif and Rukhsana Bibi jailed for murdering pensioner M Yousif in Blackburn, UK

some image some image some image

From left; Murdered M Yousif and his killers M Arif and Rukhsana Bibi

بلیک برن، برطانیہ، محمد نصیر راجہ، پوٹھوار ڈاٹ کوم۔۔۔۔۔۔۔ برطانیہ کے علاقے ایکرنگٹن میں دو عاشقوں نے مل کر پینسٹھ سالہ پنشنر محمد یوسف کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔رخسانہ بی بی اور محمد عارف نے محمد یوسف کی دو لاکھ چوالیس ہزار پونڈز کی انشورنس پالیسی کی رقم حاصل کرنے کے لئےسوتے وقت موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دونوں مجرمان نے اس قتل سے پہلے کئی ماہ پلاننگ کرتے ہوئے گزارے کہ کس طرح بوڑھے پنشنر کو راستے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔اس قتل کی کہانی قتل کے وقوع پذیر ہونے کے چھ ماہ پہلے شروع ہوئی جس کی تفصیل کچھ یوں بیان کی گئی ہے۔

رخسانہ بی بی عارف کے بھائی کی بیوی تھی مگر اس نے اپریل کے مہینے میں اپنے شوہر سے طلاق لے کر دو دن کے اندر مقتول محمد یوسف سے شادی کر لی۔ پنشنر محمد یوسف نے ایک بار اپنی سوشل ورکر سے ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ اس شادی کا آئیڈیا محمد عارف کا تھا۔ عدالت میں بتایا گیا کہ محمد یوسف کے قتل کے وقت اس کے بنک اکاونٹ میں چوبیس ہزار پونڈ موجود تھے جبکہ قتل کے کچھ دن بعد محمد عارف کے گھر پر چھاپہ مارتے وقت پولیس کو بائیس ہزار پونڈز ملے۔

عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ محمد عارف اور رخسانہ بی بی نے محمد یوسف کے نام کی فراڈ انشورنس پالیس لی جس وقت مقتول محمد یوسف ملک سے باہر تھے۔ اور اس پالیس کی رو سے محمد یوسف کی موت کی صورت میں دو لکھ چوالیس ہزار پونڈز اس کی بیوی کو ملنا تھے۔اسی طرح عدالت میں یہ بھی ثابت ہوا کہ محمد عارف محمد یوسف کو اپنے ساتھ لے کر وکیل کے پاس بھی گیا جہاں اس نے اپنی وصیت تبدیل کروائی اور نئی وصیت کے مطابق محمد یوسف کے بعد ان کی تمام جائیداد کی مالک رخسانہ بی بی ہو گی۔

سترہ ستمبر کو محمد یوسف پاکستان میں لمبی چھٹیاں گزارنے کے بعد جب برطانیہ واپس پہنچے تو اگلی ہی رات انھیں قتل کر دیا گیا۔ اس وقت رخسانہ بی بی محمد یوسف کے دو جوان بچوں کے ساتھ آئر لینڈ میں تھی۔ اور محمد یوسف اپنے فلیٹ میں اکیلے تھے۔سی سی ٹی وی کی فوٹیج کے مطابق اس رات محمد عارف کی گاڑی تین بار ان کے فلیٹ پر آئی۔محمد یوسف کی ڈیڈ باڈی تین دن بعد ان کے لینڈ لارڈ نے دیکھی اور پولیس کو مطلع کیا۔ محمد یوسف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کے سر پر کئی ضربات تھیں اس کے علاوہ گلے پر کٹ کا نشان بھی تھا۔

ؓBlackburn; TWO lovers Muhammed Arif and Rukhsana Bibi, who colluded to bludgeon a pensioner to death for a £244,000 life insurance payout have been jailed for life. Preston Crown Court heard Muhammed Arif also slashed the throat of 65-year-old Mohammed Yousaf as he slept in his Accrington flat. The murder in September followed months of planning between 45-year-old Arif and the wife of his victim, Rukhsana Bibi, 38, with whom he was having an affair.

Sentencing them for a combined minimum total of 60 years behind bars, Judge William Davis, said the pair's greed had destroyed three families. The prosecution said Bibi, who was married to Arif's brother but divorced him two days before marrying Mr Yousaf, plotted with her co-defendant to exploit the victim for money.

The court heard one month before the victim's marriage to Bibi in April 2016, Mr Yousaf met with a solicitor to sign a house he owned on Craven Street, Accrington, into her ex-husband Arif’s brother’s name. The victim, of Granville Road, Accrington, was accompanied to the appointment by Arif. Mr Yousaf later reported to a social worker that the marriage had been Arif’s idea.

During the course of Mr Yousaf and Bibi’s relationship, the prosecution said more than £24,000 left the victim’s savings account. Following the discovery of the victim's body around £22,000 in cash was found by detectives at Arif’s home. In July 2016 Bibi and Arif took out a fraudulent life insurance policy in Mr Yousaf’s name while he was out of the country. The court heard Bibi, of Wood Street, Todmorden, would get £244,000 upon his death. Mr Yousaf later visited a solicitor, accompanied by Arif, to draw up a will leaving everything he owned to Bibi.

On September 17, a jury was told Mr Yousaf returned to Accrington following an extended trip to Pakistan. The following night, with Bibi in Ireland with the victim's two grown-up children, Mr Yousaf was bludgeoned to death. The jury was shown CCTV footage of Arif’s Volkswagen Passat driving to and from Granville Road three times between 4.54pm and 10.15pm that day.

It is believed the murder was carried out that evening.Mr Yousaf’s body was found three days later by his landlord. He had suffered more than a dozen blows to the head and a slash wound to his throat.

اسلامو فوبیا، مانچسٹر یونیورسٹی کی طالبہ ریشم خان پر ایسٹ لندن کے علاقے بیکٹن میں تیزاب پھینک دیا گیا

مجرم بھاگ جانے میں کامیاب، تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی

London Acid Attack: Resham Khan Suffers Brutal Attack

some image some image

Above; Resham Khan before and after acid attack...

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ مانچسٹر یونیورسٹی کی طالبہ ریشم خان پر ایسٹ لندن کے علاقے بیکٹن میں تیزاب پھینک دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ریشم خان اپنے کزن کے ساتھ لندن میں اپنی گاڑی میں گھوم رہی تھی اور گاڑی کے شیشے گرمی کا باعث نیچے اتار رکھے تھے۔ ان کی گاڑی جب شہر میں ٹریفک لائٹس پر رکی اور جب تک وہ سگنل کھلنے کا انتظار کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں ایک شخص نے کھلے شیشے سے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔

ریشم خان کا کہنا تھا کہ جب اس کے کپڑے جلنا شروع ہوئے تن اسے احساس ہوا اس کے ساتھ کیا رونما ہوچکا ہے۔اس دوران انھوں نے تکلیف کے گہرے احساس کے دوران اپنی گاڑی بھگانا چاہی کیونکہ ان پر حملہ آور شخص دوسری طرف بیٹھے جمیل مختار پر بھی تیزاب پھینکنا چاہتا تھا مگر ان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔

ریشم کا کہنا تھا کہ اے تیرہ روڈ پر انھیں اپنے کپڑے اتارنے پڑے اور پاس سے گزرنے والی گاڑیوں سے مدد کی درخواست کرنی پڑی اسی دوران ایک رحم دل شخص نے انھیں ہسپتال پہنچایاجہاں مسٹر مختار کو بے ہوش کر کے اس کا علاج شروع کر دیا گیا اور ریشم کے چہرے کی گرافٹنگ کی گئی۔

میٹروپولیٹن پولیس کے نمائندے کے مطابق ریشم اور مختار کی گاڑی پارک ہوئی تھی جب ایک شخص نے کھلے شیشے سے ان پر تیزابی مواد پھینکا۔اسی دوران انھوں نے گاڑی بھگائی اور مجرم بھاگ گیا۔پولیس نے نیو ہیم کے علاقے میں ایک گھر پر ریڈ کیا مگر تا حال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

London ; Manchester Met university student Resham Khan, and her cousin Jameel Muhktar, were driving through Beckton, east London, when they were stopped by a red traffic light. They had the windows down and were playing music, feeling celebratory after not having seen each other since Miss Khan returned from an exchange year in Cyprus. As they waited for the lights to change a man threw a corrosive substance through the open window and into Miss Khan's face - before going round to the driver's side and throwing more acid at Mr Muhktar.

Miss Khan, a Business Management student, said she watched her clothes burn away as she struggled with the 'excruciating' pain. She said she and her cousin, 37, tried to drive away from their attacker but crashed the car when the 'pain took over'. They were forced to strip naked on the A13 as they begged passersby for water to help ease the agony. A kind stranger drove the pair to hospital where Mr Muhktar was put into an induced coma while Miss Khan was given a skin graft.

The Metropolitan Police are investigating but no arrests have yet been made. As they recover from their horrific ordeal, Miss Khan bravely shared her story on social media. Mr Muhktar was more badly burnt by the substance and so was put into an induced coma by doctors, which he has now woken up from.

A spokesman from the Met Police said: 'It is believed the victims were inside a parked car when a man approached and threw a corrosive substance through the open window. The car made off pursued by the suspect on foot before it collided with a fence. The suspect made off. 'Officers from Newham and the Met's Territorial Support Group executed a warrant at an address in E16 on the afternoon of 21 June in connection with the incident. There were no arrests

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں نامعلوم شرپسندوں نے مسجد کو نذر آتش کر کے شہید کر دیا

ڈرولسڈن روڈ پر نسفت اسلامک سینٹر کو آگ لگا دی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

Manchester Masjid left gutted after suspected arson attack

some image some image

برمنگھم شاہد ہاشمی پوٹھوھارڈاٹ کوم مانچسٹر----   برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں نامعلوم شرپسندوں نے مسجد کو نذر آتش کر کے شہید کر دیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق رات گئے نامعلوم شرپسندوں نے ڈرولسڈن روڈ پر نسفت اسلامک سینٹر کو آگ لگا دی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ بجھانے والی گاڑیوں اور عملے کے درجنوں افراد نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں مسجد کا زیادہ تر حصہ جل کر خاکستر ہوگیا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے چھت کو بھی پھاڑ دیا جبکہ دھویں کے بادل اور آگ کے شعلے دور سے نظر آرہے تھے۔

واقعے کے وقت مسجد میں کوئی شخص موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا تاہم مسجد میں نماز کا مرکزی ہال اور متصل مدرسے کے 3 کلاس رومز اور اس میں موجود تمام سامان جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ واقعے پر برطانیہ کی پوری مسلم کمیونٹی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

مسجد کے ترجمان نے بتایا کہ انہیں رات گئے فون کال موصول ہوئی کہ مسجد پر حملہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین سال میں اسی مسجد پر حملے کا یہ تیسرا واقعہ ہے، پہلے بھی نامعلوم بدبختوں نے مسجد میں خنزیر کے سر کاٹ کر پھینکے تھے اور عمارت کے باہر پیشاب کیا تھا جب کہ نئے حملے کے بعد نمازیوں کی جان کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

Manchester - A Masjid in Manchester has been gutted by fire after the third suspected arson attack in three years. Detectives have launched an investigation into the suspicious blaze that tore through the Nasfat Islamic Centre, in north-east Manchester.

Thirty firefighters were called to tackle the fire, the third to hit the building since 2014, according to a masjid spokesman. who said it had previously been targeted by vandals who threw two pigs’ heads inside and urinated outside the building in the past year.

The suspected arson attack is expected to be treated as a possible hate crime by Greater Manchester police, which says it is taking a zero-tolerance approach following a huge spike in Islamophobic incidents since the Manchester Arena attack.

The main prayer hall and three classrooms had been gutted in the fire, which ripped through the roof of the building in Newton Heath.

پاکستان سے برطانیہ ہیروئن سمگل کرنے کے جرم میں محمد اظہر کو چھ سال جیل کی سزا

محمد اظہر نے نو کلو ہیروئن سوٹ کیس کے نیچے چھپا رکھی تھی

Drug smuggler M Mazher of Birmingham Jailed for six years

some image

برمنگھم، نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔ برمنگھم کے محمد اظہر کو برطانیہ میں ایک اعشاریہ دو ملین پونڈ مالیت کی ہیروئن سمگل کرتے ہوئے دھر لیا گیا اور عدالت میں جرم ثابت ہونے پر چھ سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔بتایا گیا کہ دوحہ سے برطانیہ آتے ہوئے محمد اظہر نے اپنے سوٹ کیسوں میں نو کلو سے زائد ہیروئن چھپا کر لانے کی کوشش کی۔

بارڈر فورس آفیسرز کی جانب سے روکے جانے اور تلاشی لیے جانے پر پتہ چلا کہ مظہر نے بڑی مقدار میں ہیروئن چھپا رکھی ہے۔اس کے علاوہ لکڑی کے ایک کھوکھلے فریم میں بھی بڑی مقدار میں ہیروئن بھر ی ہوئی تھی۔ آفیسرز کے مطابق محمد مظہر نے پاکستان سے دوحہ اور وہاں سے لندن کی فلائٹ لے رکھی تھی۔

بارڈر پولیس کے یونٹ نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے مزید تفتیش کے دوران مظہر پر فرد جرم ثابت ہو گئی۔ہیتھرو ائرپورٹ پر موجود بارڈر فورس کے ڈائریکٹر کے مطابق بارڈر فورس کے انسپکٹر انتہائی تجربہ کار اور ہوشیار ہیں اور انھوں نے اتنی بڑی مقدار میں نہ صرف یہ ڈرگز پکڑیں بلکہ مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

Birmingham; Mohammed Mazhar from Birmingham has been jailed for trying to bring £1.2 million of heroin into the UK via Heathrow Airport in the bottom of his suitcase. Mohammed Mazhar, 48, of Bordesley Green East, was sentenced to six years imprisonment when he appeared at Isleworth Crown Court.

Mazhar was stopped by Border Force officer, when he arrived at the Heathrow airport’s Terminal 4 on a flight from Pakistan which travelled via Doha. During a search of baggage Border Force officers discovered heroin which had been hidden in the bottom of his suitcase.

Further drugs were found concealed in a hollowed out wooden frame he was carrying in his luggage. More than nine kilos of the Class A drug was discovered which had an estimated street value of £1.2 million.

The case was referred to the National Crime Agency’s (NCA) Border Policing Command and, following questioning, Mazhar was charged with attempting to import a Class A drug. Phil Douglas, Director, Border Force Heathrow, said: “The expertise of Border Force officers not only kept these dangerous drugs off the UK’s streets, but was also the vital first step in bringing Mazhar to justice.

ٹریزا مے کا سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باوجود شمالی آئر لینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت بنانے کا اعلان

برطانوی الیکشن میں بارہ پاکستانی نژاد امیدواروں نے میدان مار لیا

UK 2017 election result; Theresa May claims Conservative government supported by DUP

12 Pakistani-origin candidates who won in the UK election

some image some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔۔۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اعلان کیا ہے کہ وہ حالیہ انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باوجود شمالی آئرلینڈ کی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے ساتھ نئی حکومت بنا رہی ہیں۔ ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے حوالے سے اہم مذاکرات دس روز بعد مقرر کردہ وقت پر ہی شروع ہوں گے۔

برطانوی عام انتخابات میں 30 پاکستانی نژاد امیدوار بھی میدان میں اترے جن میں 12 نے کامیابی حاصل کرلی ۔ برطانیہ کے عام انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں نے تقریباً 30 پاکستانی امیدوار کو ٹکٹ دیئے ۔ لیبر پارٹی کی جانب سے چودہ جبکہ لبرل ڈیموکریٹس نے چھ ، سکاٹش نیشنل پارٹی نے ایک ، پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو میدان میں اتارا ۔

بریڈفورڈ ویسٹ کی نشست پر لیبر پارٹی کی امیدوار ناز شاہ جبکہ بریڈفورڈ ایسٹ کے حلقے سے لیبر پارٹی کے ہی عمران حسین جیتے ہیں۔ برمنگھم پیری بار کے حلقے سے لیبر پارٹی کے خالد محمود جبکہ برمنگھم لیڈی وڈ سے لیبر پارٹی کی ہی شبانہ محمود ایک بار پھر کامیاب ہوئی ہیں۔ لیبر پارٹی کی یاسمین قریشی بولٹن ساؤتھ ایسٹ جب کہ لیبر پارٹی کی ڈاکٹر روزینہ ایلن خان ٹوٹنگ لندن سے دوبارہ رکنِ پارلیمان بنی ہیں۔ وارنگٹن ساؤتھ سے فیصل خورشید نے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ حکمران کنزرویٹو پارٹی کے تین امیدوار ساجد جاوید برومز گرو سے، نصرت غنی ویلڈن جبکہ رحمان چشتی گیلنگھم اور رینہم سے ایک بار پھر انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

London; Theresa May has said she will form a Conservative government backed by the DUP, claiming it can bring "certainty" to the UK. After visiting the Queen, the Prime Minister claimed there was a "strong relationship" between the two parties, amid concern over the DUP's controversial anti-abortion and anti-LGBT policies.

The UK voted for hung parliament after shock losses for the Conservatives in the 2017 general election. With 649 of 650 seats declared, the Tories had 318 seats - eight short of the figure needed to win outright - with Labour on 261, the SNP on 35 and Liberal Democrats on 12.

Jeremy Corbyn's party increase its share of the vote by 9.6 per cent, while the Tories were up 5.5 per cent, the Liberal Democrats, Greens and SNP saw small loses and Ukip's vote collapsed.

Paul Nuttall resigned as the party's leader after claiming its work "was not done", while Nicola Sturgeon and Tim Farron attacked Ms May for her decision to hold an election.

A large number of candidates with roots in Pakistan participated in the election in Britain on June 9. At least 12 have so far been successful. Amongst who won the 2017 elections are, Labour Party candidate Faisal Rashid was elected MP from Warrington South. Afzal Khan secured the seat for Manchester Gorton. Imran Hussain of the Labour Party in Bradford East. Labour Party’s Yasmin Qureshi won from Bolton. Rehman Chishti from the Conservative Party also won from Gillingham. Nusrat Ghani also secured a seat. Labour candidate Naz Shah in Bradford East. Labour Party candidate, Khalid Mahmood. Shabana Mahmood, a Labour Party candidate Birmingham, Ladywood. Rosena Allin-Khan of the Labour Party also won her seat in Tooting.Sajid Javed affiliated with the Conservative Party won his seat and Labour Party’s Mohammed Yasin defeated Conservative Richard Fuller in Bedford.

some image some image some image some image

From Left; Faisal Rashid, Afzal Khan, Imran Hussain and Naz Shah.

some image some image some image some image

From Left; Yasmin Qureshi, Khalid Mahmood, Rosena Allin-Khan and Sajid Javed.

some image some image some image some image

From Left; Rehaman Chishti, Nusrat Ghani, Mohammad Yasin and Shabana Mahmood.

اسلام آباد سے ہیتھرو آنے والے پی آئی اے کے جہاز کو عملے سمیت یو کے بارڈر ایجنسی نے منشیات سمگلنگ کے شبے میں روک لیا

Drugs seized from PIA plane at Heathrow Airport, Crew detained: UK authorities

some image

برمنگھم نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم شاہد ھاشمی ----  پی آئی اے کی پرواز پی کے 758 لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر پہنچی، جہاز سے مسافروں کے اترنے کے بعد ائیرپورٹ انتظامیہ نے جہاز کے عملے کو حراست میں لے کر کئی گھنٹے تک تفتیش کی ذرائع کے مطابق فلائیٹ کو خفیہ اطلاع پر روکا گیا تاہم تلاشی کے دوران عملے اور جہاز سے کچھ برآمد نہیں ہوا جس پر پروازکوکلیئرکردیا پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور کا کہنا ہے

کہ پولیس نے پائلٹ سمیت عملے کے 13 افراد کو حراست میں لیا تھا تاہم اب پی آئی اے کےعملے کو رہا کردیا گیا ہے جب کہ ہماری اکثر پروازوں کو تلاشی یا کسی اور بہانے سے تاخیر کا شکار کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پی آئی اے کا شیڈول بری طرح متاثر ہوتا ہے مالی نقصان کےعلاوہ بعض اوقات جرمانے بھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے حکام نے واقعے پر برطانوی حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے

اس کے علاوہ لندن میں پی آئی اے کے اسٹیشن منیجر ساجد اللہ سے واقعے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واقعے پر پائلٹ حامد گردیزی کا مؤقف اور لاگ بک میں لکھے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا جائے۔ دوسری جانب ترجمان برطانوی محکمہ داخلہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پی آئی اے عملے کے خلاف کارروائی برطانوی بارڈر ایجنسی نے کی قانون کے مطابق بارڈر ایجنسی براہ راست محکمہ داخلہ کو جوابدہ ہے اس لیے ضابطے کے تحت معاملے کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں

London - A Pakistan International Airlines (PIA) plane flying to Heathrow Airport was thoroughly searched and its 14 member crew detained by British authorities after landing in London. However, the National Crime Agency and UKBA agents, after searching the plane for approximately four hours, did not find anything. The crew was later released after being questioned but their passports were withheld by the UKBA, which stated that further questioning might take place.

According to conflicting news A large amount of heroin was seized from Pakistan International Airlines (PIA) PK-785, UK's National Crime Agency (NCA) confirmed the news. “National Crime Agency officers are investigating following the seizure of a large quantity of heroin found by Border Force officers onboard a flight from Pakistan at Heathrow on Monday, May 15. No arrests have been made, enquiries are ongoing,” an NCA spokesman told.

Total of 13 crew members of PIA PK-785 who had arrived from Islamabad were detained at the Heathrow Airport. The crew members were kept in detention for five hours, and according to UK Border Agency (UKBA) sources, information had been received from Pakistan that there were narcotics onboard the flight. According to the information, there was a suspicion that the crew might be involved and that narcotics were hidden in different panels and areas of the plane. The crew was released at 2 AM (GMT) after being questioned but their passports are still held by the UKBA which states that further questioning might take place.

The PIA crew said that the customs authorities carried out a thorough search going through each and every thing, adding they have no clue as to why such treatment was meted out to them.The crew said the authorities also questioned them, and inquired the crew what part of the plane were they assigned to.

There was a total of 16 crew member on the plane, they added.The crew said that the authorities have assured them that their passports, which remain confiscated, will be returned before tomorrow when the crew leaves for Pakistan. The airline is being defamed by giving out false information, the crew alleged. In a statement, the Metropolitan police said action against PIA crew members was taken by the UKBA which is directly dealt by the Home Office.

پاکستان میں اغوا ہونے والا برطانوی شہری شہزاد خان بازیاب، زبیر گل کو زبردست خراج تحسین

Shazad Khan of Manchester kidnapped in Attock is freed after 16 days in captivity

some image some image

سلاو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام افتخار وارثی)---- برطانیہ کے شہر اولڈہم سے تعلق رکھنے والا اٹک کا رہائشی شہزاد خان اغوا کاروں کے شکنجے سے بازیاب- تفصیلات کے مطابق شہزاد خان جو کہ برطانیہ کے شہر اولڈہم میں مقیم تھا اور فیملی کے ساتھ چھٹیاں گزارنے پاکستان گیا تھا - اغوا کاروں نے اس اس کے گھر حملہ کر دیا اور نقدی،زیورات اور قیمتی اشیاء سے محروم کر دیا اور جاتے ہوئے شہزاد خان کو بھی اغوا کر کے ساتھ لے گئے اور بعد میں شہزاد خان کے والد دراز خان سے پانچ کروڑ تاوان کا مطالبہ کر دیا -

دراز خان نے بغیر وقت ضائع کیے برطانیہ میں مقیم اپنے دوست الیاس سے رابطہ کیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور مدد کی اپیل بھی کی- دارز خان کے دوست نے فوری طور پر پاکستان میں مقیم اوورسیزز کمیشنر اسلام آباد زبیر گل سے رابطہ کیا اور شہزاد خان کے اغوا ہونے کی پوری تفصیل بتائی-

زبیر گل نے وزیراعظم میاں نواز شریف کی توجہ اس معاملے پر دلوائی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم پر آر پی او راولپنڈی نے کاروائی کرتے ہوئے دونوں ہفتے کے اندر شہزاد خان کو اغواء کاروں کے نرغے سے بحفاظت بازیاب کرا لیا - شہزاد خان کی بازیابی کے بعد زبیر گل خود اس کے گھر واقع اٹک گئے اور شہزاد خان اور ان کے والد دراز خان کو مبارک باد دی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا

کہ میاں نواز شریف کے بے مشکور ہیں جنہوں بروقت کارروائی کا حکم دیا اور اب شہزاد خان بخیرو عافیت ہمارے ساتھ موجود ہیں- شہزاد خان کے والد دراز خان نے میاں نواز شریف، زبیر گل اور پولیس کے اعلی حکام اور برطانوی اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا- ادھر برطانیہ میں مقیم اوورسیزز پاکستانیوں کی جانب سے زبیر گل کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا کہ زبیر گل نے بہت بڑا کام کیا اور امید ہے اسی طرح اوورسیزز پاکستانیوں کے مسائل حل کرتے رہیں گے-

Slough; British Pakistani national Shazad Khan from Oldham, Manchester was kidnapped while on a visiting Pothwar region of Attock, his native town in Pakistan; he was accompanied by his family.

Shazad's house was raided by dacoits, who not only took money and jewellery with them but also kidnapped him. His kidnappers later demanded Rs05 crore ransom money for his safe release. Shazad's father Daras Khan, contacted his friend M Ilyas in UK, who then contacted Overseas Commissioner Zubair Gul. The matter was brought to the attention of PM Nawaz Sharif and after a recovery operation led by RPO, Rawalpindi, Shahzad Khan, returned home after 16 days in captivity.

Speaking to pothwar.com at his residence Daras Khan, father of Shazad, said, "I would like to thank PM Nawaz Sharif and Zubair Gul, they have helped us a lot for a safe return of my son, and I would also like to thank the British Embassy and all other relevant departments which have helped us a lot throughout this difficult time.

Zubair Gul visited Shazad Khan and his family in Attock. Speaking to the media, he said, "It is my responsibility to sort out the problems of overseas Pakistanis in Pakistan or anywhere in the world, and I am glad that this matter is resolved

لندن میں ایک وین مسجد سے نکلنے والے نمازیوں پر چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی

اس واقعے کے بعد ایک 48 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے

One dead 10 people left injured after terrorist strike worshippers leaving Masjid in London

some image some image

لندن، پوٹھوار ڈاٹ کوم، محمد نصیر راجہ سے۔۔۔۔۔ لندن میں ایک وین مسجد سے نکلنے والے نمازیوں پر چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ ایک وین اس وقت فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگوں پر چڑھ دوڑی جب وہ آدھی رات کے قریب سیون سسٹرز روڈ پر فنزبری پارک کی مسجد میں نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔

اس واقعے کے بعد ایک 48 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔مسلم کونسل برطانیہ کا کہنا ہے کہ وین ڈرائیور نے جان بوجھ کر گاڑی لوگوں پر چڑھا دی۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ اسلام دشمنی کا شدت پسندانہ مظہر ہے اور اس نے مساجد کے گرد مزید سکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ خاصا مصروف تھا کیونکہ رمضان کے سبب بہت سے لوگ نماز ادا کرنے آئے تھے۔وزیرِ اعظم تھریسا مے نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے جس میں اس واقعے پر بات کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اس واقعے کو ممکنہ دہشت گردی قرار دے رہی ہے۔برطانوی وزیرِ اعظم نے اسے ہولناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو زخمی ہوئے ہیں اور ان کے عزیزوں کے ساتھ ہیں۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ سیون سسٹرز روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ہنگامی خدمات کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس حادثے کی ایک آن لائن ویڈیو میں لوگوں کو زخمیوں کی مدد کرتے ہوئے اور ایک آدمی ایک زخمی کو ہنگامی طبی امداد دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

London; One man died and 10 people were left injured after a man drove a van into worshippers close to the Muslim Welfare House in Finsbury Park. A white man aged 48 has been arrested on suspicion of attempted murder. Metropolitan Police Commissioner Cressida Dick said the incident was "quite clearly an attack on Muslims".

Prime Minister Theresa May says the terror attack near a north London masjid is "every bit as sickening" as other recent ones to hit the UK. She said the community would see more police, including armed officers, in the area, "particularly around religious establishments".

The attack happened shortly after midnight when a group of people helping a man who had collapsed on the pavement were hit by the van. The man has died..

It is the fourth terror attack in the UK in three months, after incidents in Westminster, Manchester and on London Bridge. Police said all the victims of the attack were Muslim and many were believed to have just left evening prayers after breaking the Ramadan fast.

some image

Pothwar. COM

+44 7763249391 | pothwar@yahoo.co.uk
© Copyright Pothwar.com | Est. 2000-2017

new graphics